پاکستان میں اردو سے ’’ سوتیلی ماں‘‘ جیسا سلوک ہو رہا ہے: پروفیسر عنایت علی خان

کراچی(ایس این این) ممتاز شاعر پروفیسر عنایت علی خان نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں سندھ کی ایک درس گاہ میں صرف انگریزی اور سندھی زبانوں میں تعلیم جاری رکھنے کے اعلان پر بہت دکھ ہوا کہ اردو زبان جس کی بنا پر قیام پاکستان کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوسکی تھی آج اس سے پاکستان میں غیروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔محمد علی جناح یونیورسٹی میں’’ ترویج و ترقی اردوگفت وادب کانفرنس‘‘سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر عنایت علی خان نے کہا تحریک پاکستان کے دو بنیادی پہلو تھے ایک نظریاتی اور دوسرا لسانی جس کی بنا پر ایک اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی گئی تھی اس لیے وہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر اردو زبان نہ ہوتی تو پاکستان نہ بنتا اور اگر یہ نہ رہی تو ملک کے وجود کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اردو زبان کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ایک خوبصورت ترین زبان ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے لیکن افسوس آج ہمارے ملک میں بچوں سے کہا جاتا ہے کہ اگر ترقی کرنی ہے تو انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرو۔
کانفرنس کی صدارت کے فرائض سینئر صحافی اور ممتاز مصنف محمود شام نے انجام دیے جبکہ دیگر نمایاں شخصیات میں ممتاز اسکالر اور مینجمنٹ ٹرینر سیدّ نصرت علی،ٹیلی ویژن کی مشہور اداکارہ عذرا منصور،مشہور شاعرہ سبین سیف، اٹلانٹس پبلشرز کے سربراہ فاروق احمد اور تھیسپیان تھیٹر کے ڈائریکٹر و اداکار فیصل شامل تھے ،کانفرنس کا اہتمام یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسرز زرتاشہ عمران اور حسن آفتاب نے کیا تھا۔ماجو میں اردو کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر مجلس مذاکرہ کے علاوہ یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے اردو کے ممتاز افسانہ نگار سعادت حسین منٹو کی شخصیت پر ایک تھیٹر بھی پیش کیا گیا جس کو حاضرین نے بے حد سراہا۔اس موقع پر یونیورسٹی کی راہداری میں اردو ادب کے نامور شعرا، ادیب، نقاد،افسانہ نگار اور دانشوروں کی پچاس کے قریب تصاویر آویزاں کی گئی تھیں جن پر ان کا مختصر تعارف بھی تحریر کیا گیا تھاجبکہ اردو کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر طلبہ کی جانب سے اردو میں کی جانے والی فن خطاطی کی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
صدر مجلس محمود شام نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی نسل میں احساس زیاں پایا جاتا ہے کیونکہ ہماری نسل نے اردو زبان کی ترویج پر توجہ نہیں دی۔ انھوں نے کہا کہ اب جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا دور ہے مگر ہم نے اس بھی فائدہ نہیں اٹھایا ہے انگریزی ادب سے تعلق رکھنے والے ممتاز شاعر شیکسپئیر کو دنیا بھر میں جس طرح متعارف کرایا گیا ہے وہ ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک بہترین مثال ہے۔
محمود شام نے کہا کہ اردو زبان کی ترویج کے لیے ویب سائٹ کی سہولت سے بھر پور استفادہ کیا جاسکتا ہے اردو زبان اب پاکستان ہی کی زبان نہیں ہے اب اس کی نئی نئی بستیاں امریکا،کنیڈا،جاپان، برطانیہ، آسٹریلیا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں آباد ہو گئی ہیں جہاں تواتر کے ساتھ مشاعرے، ڈرامے، افسانے پڑھنے اور دیگر ادبی پروگراموں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں