کلرک مافیا کی ملی بھگت، رشوت نہ دینے پر ٹیچر ترقی سے محروم

ساہیوال(ایس این این) کلرک مافیا کی ملی بھگت، رشوت نہ دینے پر سکول ٹیچر 13 سال سے پروموشن سے محروم. متاثرہ ٹیچر کی درخواست پر ڈی ای او ایجوکیشن نے رشوت مانگنے والے کلرک کو ہی انکوائری سونپ دی. غیر جانب دار کمیٹی بنا کر مجھے انصاف دیا جائے. یوسف مسیح کا مطالبہ. تفصیلات کے مطابق 90 نائن ایل ساہیوال کا رہائشی یوسف مسیح 1986 میں بطور پرائمری ٹیچر بھرتی ہوا. 2005 میں سینیارٹی لسٹ میں سیریل نمبر 13 پر اسے پروموشن کا حقدار ٹھہرایا گیا. یوسف مسیح کے مطابق پروموشن کا آرڈر جاری کرنے کے لیے مبارک نامی کلرک نے اس سے 50،000 روپے طلب کیے. رشوت نہ دینے کی وجہ سے اس کا نام لسٹ سے نکال دیا گیا اور اس کے ساتھ بھرتی ہونے والے اساتذہ کو ترقی دے دی گئی.2009 میں دوبارہ ترقی کے لیے درخوات دینے کے باوجود اسے ترقی سے محروم رکھا گیا تاہم گاؤں سے شہر کے سکول میں ٹرانسفر کے نام پر مذکورہ کلرک نے اس سے 10،000 روپے طلب کیے . یوسف مسیح کے مطابق اس نے اپنی ترقی کا معاملہ دبانے پر سی ای او راؤ عتیق کو درخواست دی تو انھوں نے ڈی ای او کو مارک کردی. ڈی ای او نے مبارک نامی کلرک کو ہی اس معاملے کی انکوائری سونپ دی. گزشتہ روز مبارک نے مجھے دفتر بلا کر دھمکایا اور برا بھلا کہا. یوسف مسیح نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے کیس کی انکوائری منصفانہ بنیادوں پر کروائی جائے اور 2005 سے پروموشن لسٹ میں نام آنے کے باوجود اسے ترقیاب نہ کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیا جائے.

اپنا تبصرہ بھیجیں