ڈی سی گوجرانوالا کی موت، قتل یا خود کشی ، اہم انکشافات

گوجرانوالا(ایس این این) ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کی پراسرار موت‘ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنا دی گئی.ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو کی پر اسرار موت پولیس کیلئے معمہ بن چکی ہے 36گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی سہیل احمد کی موت کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکی کہ انھیں قتل کیا گیا یا پھر انہوں نے خود کشی کی . آر پی او گوجرانوالہ نے ایس ایس پی کی سربراہی میں سات رکنی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنا دی ،جنہوں نے ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے 16ملازمین سے بھی تفتیش کی۔ تفتیشی حکام کے مطابق ڈی سی ہاوس میں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ ، ملازمین کے موبائیل فونز اور سہیل احمد کے زیر استعمال چار عدد موبائل فون لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر سے حاصل کیے جانیوالے ڈیٹا کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ پولیس کے اعلی افسروں کا کہنا ہے کہ فرانزک لیب کی رپورٹ آنے کے بعد تفتیش کی درست سمت کا تعین کیا جا سکے گا جبکہ پنجاب فرانزک لیب کے سٹاف اور اعلی پولیس افسران نے دوسرے روز بھی کرائم سین کا دورہ کیا اور تمام پہلووں کا جائزہ لیا اگر سہیل احمد کو قتل کیا گیا تو کمرہ اندر سے بند کیسے تھا ہاتھ کس نے باندھے اور ہاتھ باندھنے کے بعد کس طرح سہیل احمد پنکھے سے لٹکے کس پریشر کی وجہ سے سہیل احمد نوکری چھوڑنا چاہتے تھے یہ وہ تمام سوالات ہیں جنہوں نے اس کیس کو ہائی پروفائل بنا دیا ہے ڈپٹی سیکٹری فنانس پنجاب جیسے اہم عہدہ پر فائز رہنے والے سہیل احمد کو آخر کس بات کا پریشر تھا تمام سیکیورٹی ادارے بھی اس راز سے پردہ اٹھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں. معروف کالم نگار ہارون الرشید کے مطابق (ن) لیگ کے وفاقی وزیر خرم دستگیر سرکاری زمین اپنے نام لگوانا چاہتے تھے. خرم دستگیر نے زمین کی فائل ایڈیشنل سیکرٹری سے دستخط کروا کے سہیل ٹیپو کو دی تھی . ہارون الرشید نے یہ دعویٰ کیا کہ سہیل ٹیپو اس فائل پر دستخط کرنے سے گریزاں تھے اس بنا پر انھیں قتل کیا گیا ہے. گوجرانوالا بھر میں یہ چہ مگوئیاں عام ہیں کہ سہیل ٹیپو کو قتل کیا گیا ہے .

اپنا تبصرہ بھیجیں