علماء عوام میں مذہبی رواداری کو فروغ دیں:‌ڈی سی ساہیوال

ساہیوال(بیورورپورٹ) ڈپٹی کمشنر شوکت علی خان کھچی نے کہا ہے کہ تمام مذاہب کے علمائے کرام لوگوں کو رواداری اور برداشت کا درس دیں اور اپنے باہمی جھگڑوں کو خود ہی مل بیٹھ کر حل کرنے کی روش اپنائیں تا کہ دنیا میں پاکستان کا مثبت پہلو اجاگر ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں اپنے دفتر میں مسیحی تہوارایسٹر،پام سنڈے اور گڈ فرائیڈے کی تیاری کیلئے منعقدہ ڈسٹرکٹ امن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ایس پی انویسٹی گیشن نوید ارشاد، دونوں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز،ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کے ضلعی افسران،علمائے کرام سید ضیاء اللہ شاہ بخاری اور حاجی احسان الحق فریدی اور بشپ آ ف ساہیوال ابراہم عظیم ڈینیل اور دلبر جانی کے علاوہ امن کمیٹی کے ممبران نے بھی شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب کی عبادت گاہیں سب کیلئے امن و عافیت کی جگہیں ہیں جن کا احترام واجب قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان پر جتنا حق مسلمانوں کا ہے اتنا ہی غیر مسلم برادری کا بھی ہے کیونکہ وہ بھی ملکی ترقی میں دوسروں کے شانہ بشانہ شریک ہیں۔ڈپٹی کمشنر شوکت علی خان کھچی نے کہا کہ بردباری ایک اعلیٰ خاصیت ہے جس کا صلہ انسان کو دنیا و آخرت میں ضرور ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ساہیوال میں امن و امان کی مثالی فضا کو قائم رکھنے کیلئے معاشرے کے ہر باشعور فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ خوشی کی گھڑیوں میں مسیحی برادری کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کریں۔ڈپٹی کمشنر نے قیام امن کیلئے کی جانیوالی امن کمیٹی کی کوششوں کو سراہا۔اجلاس کے آخر میں امن و امان اور ملکی سلامتی کیلئے اجتماعی دعا بھی کی گئی۔دریں اثنا اپنے دفتر میں ہونیوالے ایک اور اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے ریٹائر ہونیوالے سرکاری ملازمین کے واجبات اور پنشن کی ادائیگی میں درپیش مشکلات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی پنشن ساری زندگی کی محنت کا نعم البدل ہے جسے بروقت ادا نہ کیا جانا ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے حکم دیا کہ تمام محکمے ریٹائر ہونیوالے ملازمین کی پہلے سے ہی لسٹیں تیار رکھیں اور ایک ماہ کے اندر واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں