زینب کا قاتل گرفتار، چوراہے پر لٹکایا جائے:‌لواحقین کا مطالبہ

لاہور: قصور میں جنسی زیادتی کے بعد بہیمانہ انداز میں قتل کی جانے والی 8 سالہ کمسن بچی زینب کے مبینہ قاتل عمران کوگرفتار کرلیا گیا ہے۔گرفتار شدہ عمران کا ڈی این اے ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم عمران نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے اور ملزم زینب کا پڑوسی بتایا جا رہا ہے۔ قبل ازیں بھی ملزم کو پولیس نے گرفتار کیا تھا تاہم بعد عدم شہادت کی بناپر چھوڑ دیا گیا تھا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے کہ زینب کا قاتل عمران علی سیریل کلر ہے،جسے گرفتار کرلیا ہے،میرا دل چاہتا ہے کہ اس درندے کو چوک پر لٹکا کر پھانسی دی جائے۔

اس ضمن میں وزیراعلیٰ پنجاب نے زینب کے والد کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ زینب کے قتل پر پوری قوم شرمسار،رنجیدہ اور دکھ کی کیفیت میں ہے۔وزیر اعلیٰ کے مطابق زینب قتل کیس کے ملزم کی گرفتاری کےلئے جے آئی ٹی ، پنجاب فرانزک لیب اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے 14دن شب و روز تحقیقات کیں جس کے نتیجے میں ملزم تک رسائی میں مدد ملی. وزیر اعلیٰ کے مطابق انھوں نے اس کیس کو اپنی بچی کا کیس سمجھ کر ڈیل کیا.اب وقت آ چکا ہے کہ اس درندے کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے. شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس کیس میں 1150ڈی این اے نمونوں کی جانچ پڑتال کی گئی اوراس درندے کا ڈی این اے میچ ہوا،ملزم کاپولی گرافک ٹیسٹ بھی لیا گیا ہے، اور عمران نامی اس درندے نے اپنی سفاکانہ وارداتوں کااقرار کرلیا ہے، بیان کی ویڈیو موجود ہے۔وزیر اعلیٰ نے تحقیقات کے سلسلہ میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی کارکردگی کو سراہا.وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ زینب قتل کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلے گا.

بچی کے والد کی خواہش ہے کہ درندے کو چوراہے پر پھانسی دی جائے،اس کے لئے قانون میں ترمیم کرنا پڑی تو کریں گے۔انھوں نے اس مسئلے پر سیاسی شعبدہ بازیوں‌پر تشویش کا اظہار کیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں