گرین لائن پراجیکٹ میں تاخیر کی وجہ سندھ حکومت ہے:گورنر سندھ

کراچی: گورنر سندھ محمد زبیر کا کہنا ہے کہ گرین لائن پروجیکٹ بسیں لانے میں تاخیر سندھ حکومت کی وجہ سے ہے۔ اپریل یا مئی میں یہ پروجیکٹ شروع کردیں گے۔گورنر سندھ نےگرین لائن پروجیکٹ کے جاری ترقیاتی کام کا جائزہ لینے کے لیے کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد حیدری کا دورہ کیا۔
اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ منصوبوں میں تاخیر ہوتی رہتی ہے،گرین لائن سے پبلک ٹرانسپورٹیشن کااچھا نظام شروع ہوگا۔
گورنر سندھ نے بتایا کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مختلف پروجیکٹ میں شامل ہے اور ہم ایکسپریس وے اورپانی کے منصوبوں میں سندھ حکومت کے ساتھ کام کررہے ہیں۔محمد زبیر نے بتایا کہ کراچی پیکجز کے لیے بنیادی کام مکمل ہوچکا ہے ہم کراچی کو ماڈل سٹی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرکلر ریلوے سے متعلق تحفظات دور کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں وزیراعظم بھی یقین دہانی کروا چکے ہیں۔
گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ میئر کراچی کا کردار اہم ہے، عوام نے انہیں منتخب کیا ہے، ہم نے کراچی پیکیج سے متعلق کل بھی میئرسے ملاقات کی تھی۔
کراچی کے حالات پر بات کرتے ہوئے گورنر سندھ محمد زبیر کا کہنا تھا کہ شہر کے اندر 4 سال میں معجزاتی تبدیلی آئی ہے، بڑے کرائم شہر سے ختم ہوگئے ہیں، جبکہ اس سے قبل 2013 میں کراچی خطرناک ترین شہر تھا اور یہاں سرمایہ کار آنے کو تیارنہیں ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام امن و امان قائم کرنا اور سرمایہ کاری کی فضا بہتر بنانا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کراچی میں سرمایہ کار جب آتے ہیں تو ہوٹلوں میں جگہ نہیں ملتی۔گورنر سندھ نے بتایا کہ اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں آنے والے دنوں میں بڑی کمی آئےگی،ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی بحالی میں رینجرز کا اہم کردار ہے۔اس موقع پر گورنر سندھ نے بتایا کہ شنگھائی پاور جلد ہی کے الیکٹرک کے انتظامات سنبھال لے گی اور نیپرا سے متعلق اس کے جو مسائل ہیں وہ جلد حل کیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے مسائل حل ہونے سے کراچی ایک الگ شہر بن کر سامنے آئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں