اسلام آباد: حکومت اور دھرنا قائد ین کے مذاکرات ختم

اسلام آباد: اسلام آباد میں جاری دھرنا ختم کرانے کے لئے حکومتی وفد اور دھرنا قائدین کے درمیان مذاکرات ختم ہوگئے تاہم اس کے نتائج کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا ۔ ن لیگ کے ر ہنماراجہ ظفر الحق کی رہائش پر ہونے والے مذاکرات میں پیر گولڑہ شریف غلام محی الدین جامی بطور ثالث شریک ہوئے ۔ حکومت کی طرف سے وزیر داخلہ احسن ا قبال ،وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری،پیر امین الحسنات ،بیرسٹر ظفر اللہ اور میئر اسلام آباد شریک تھے جبکہ دھر نے کے شرکاءکی نمائندگی ڈاکٹر شفیق امینی، شیخ اظہر اور پیر اعجاز شیرانی نے کی ۔واضح رہے کہ فیض آباد دھرنا ختم کرانے کی عدالتی ڈیڈلائن ختم ہونے کے باوجود حکومت شرکا کو مذاکرات کے ذریعے دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کرانے کی کوشش کررہی ہے۔ وزیرداخلہ احسن اقبال نے انتظامیہ کو آپریشن 24 گھنٹے موخر کرنے کی ہدایت کی ہے .
قبل ازیں فیض آباد میں جاری د ھرنا ختم کرانے کے لئے حکومت نے کوششیں تیز کردی تھیں،دھرنا قائدین سے مذاکرات کے لئے ایک طرف پیر آف گولڑہ شریف کو بھیج دیا اور دوسری طرف ن لیگ کے چیئرمین راجا ظفر الحق سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی ۔ راجہ ظفر الحق کی معذرت.فیض آباد میں دھرنا ختم کرنے کیلے دی گئی ڈیڈ لائن کا وقت کم رہ گیا ہے،گولڑہ شریف کے پیر نظام غلام الدین نظامی شرکاء سے مذاکرات کے بعد مظاہرین کے مطالبات حکومتی کیمپ میں لے گئے اور بتایا کہ دھرنے کے شرکاء اپنے مطالبات پر قائم ہیں ۔
راجا ظفر الحق سے ن لیگ کے صدر اور سابق وزیراعظم نوازشریف اور وفاقی وزیر داخلہ نے شرکاءسے مذاکرات کی اپیل کی ، لیکن انہوں نے انکار کردیا ،احسن اقبال ن لیگ کے چیئرمین کو منانے کے لئے ان کے گھر پہنچ گئے ہیں. اسلام آباد انتظامیہ نے عدالتی حکم کے بعد گزشتہ رات دھرنے کے شرکا کو رات 10 بجے دھرنا ختم کرنے کی مہلت دی تھی لیکن وزیر داخلہ احسن اقبال نے شرکا کو مزید 24 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے انہیں مذاکرات کی پیشکش کی۔حکومت نے دھرنے کے شرکا سے باضابطہ مذاکرات کا فیصلہ کیا جس کے لیے پیر آف گولڑہ شریف غلام نظام الدین نظامی ثالثی کے لیے دیگر علماء کے ہمراہ فیض آباد دھرنے میں پہنچے ،جہاں انہوں نے دھرنے کے قائدین سے مذاکرات کیے اور ان کا پیغام لے کر حکومت کے پاس چلے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ پیر آف گولڑہ شریف نے راجہ ظفر الحق اور وزیر داخلہ احسن اقبال کو دھرنا قائدین کا پیغام پہنچایا ہے جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہےکہ اگر حکومت دھرنا ختم کرانا چاہتی ہے تو فی الفور وزیر قانون زاہد حامد کو عہدے سے برطرف کرے جس کےبعد ہی بات ہوسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق پیر آف گولڑہ شریف غلام نظام الدین نظامی، پیر امین الحسنات، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور میئر اسلام آباد شیخ انصر بھی راجا ظفر الحق کے گھر پہنچ چکے ہیں جہاں دھرنے کو پر امن طریقے سے حل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں