محبت کا چراغ

عبدالطیف کھوکھر میر پور آزاد کشمیر

سیرت النبی ﷺ کا کون سا گوشہ ہے۔جس پر نہیں لکھا گیا، کون سا پہلو ہے جس پر نہیں کہا گیا۔ کون سی زبان ہے جو مدحِ نبیؐ سے آراستہ نہ ہوئی ہو۔یقینا کوئی گوشہ، کوئی پہلو ایسا نہیں جس پر خامہ فرسائی نہ کی گئی ہو۔
تعبیرات کے شہ پارے، خطابت کے شاہکار، منظوم جواہر پارے لے کر ادیب و خطیب و شاعر دربار رسالت میں حاضری اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔۔ عبادت سمجھتے ہیں۔۔ انداز سب کا عاشقانہ، ہر ایک کا والہانہ، اس لیے کہ سیرت سرور عالم ﷺ کو اس کی حاجت ہے کہ جمالِ سیرت تو ان سب سے مستغنی و بے نیاز۔۔۔ تاہم لفظوں کے جس صدف کو ابرِ سیرت چھو گیا، وہ گوہر میں ڈھل گیا۔
کیا کوئی زبان ایسی ہے جہاں ادب کی فضائیں حضور رسالتؐ میں نہ سلام کہتی ہوں، نہ پیام دیتی ہوں۔نہیں قطعی نہیں، اس لیے کہ حضوراکرمؐ کی سیرت کا ایک پہلو ہے محبوبیت و عقیدت کا،دلوں میں آپؐ کے احترام و عظمت کا۔ شاہ ہو گدا، فقیر ہو کہ امیر، عاصی ہوکہ پاکباز، بندہ مومن کے دل میں آپؐ کی محبت کا چراغ روشن رہتا ہے۔ یہ چراغ۔۔۔ چراغ محبت سرمایہ ملت بھی ہے اور سرمایہ ملت کا نگہبان بھی،گناہوں سے آلودہ معاصی کا خوگر، لاابالی و آوارہ، ہر سو غفلت کے چھائے ہوئے اندھیروں میں گِرا ہوا ایک امتی، ختم الرسل کے سامنے جب نام ”محمد ﷺ“ کا آجائے تو اس کی آنکھوں میں عقیدت کا نور، محبت کا سرور جھلکنے لگتاہے،چھلکنے لگتاہے۔ ایک شرابی کبابی شاعر خراباتی کا قصہ جو ایمان میں اضافے کا باعث بھی اور محبت رسولؐ کی انتہا کا پتہ دیتاہے۔
اختر شیرانی اردو کے مشہور شاعر گزرے ہیں۔ لاہور کے عرب ہوٹل میں ایک دفعہ کمیونسٹ نوجوانوں نے جو بلا کے ذہین تھے۔اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ اس وقت تک وہ دو بوتلیں چڑھا چکے تھے۔ اور ہوش قائم نہ تھے۔تمام بدن پر رعشہ طاری تھا۔حتیٰ کہ الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر زبان سے نکل رہے تھے۔ادھر ’انا‘ کا یہ حال تھا کہ اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے۔ جانے کیا سوال زیرِ بحث تھا۔ فرمایا ”مسلمانوں میں تین شخص اب کے ایسے پیدا ہوئے جو ہر اعتبار سے جینیس ہیں۔ پہلے ابوالفضل، دوسرے اسداللہ خان غالب، تیسرے ابو الکلام آزاد “۔
شاعر وہ شاذ ہی کسی کو مانتے تھے۔ ہمعصر شعراء میں جو واقع شاعر تھا، اسے بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے۔کمیونسٹ نوجوانوں نے ”فیض“ کے بارے میں سوال کیا، طرح دے گئے۔ ”جوش“ کے متعلق پوچھا، کہا وہ ناظم ہے۔ ”سردار۔۔۔۔“ کا نام لیا، مسکرائے۔ ”فراق“ کا ذکر چھیڑا ”ہوں ہاں“ کر کے چپ ہو گئے۔
”ساحر لدھیانوی“ کی بات کی، سامنے بیٹھا تھا،فرمایا مشق کرنے دو، ”ظہیر کاشمیری“ کے بارے میں کہا،نام سنا ہے۔احمد ندیم قاسمی؟ فرمایامیرا شاگرد ہے۔ نوجوانوں نے دیکھاکہ ترقی پسند تحریک کے منکر ہیں تو بحث کا رخ پھر دیا۔”حضرت! فلاں پیغمبر کے بارے میں کیا خیال ہے؟آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ نشہ میں چور تھے۔زبان پر قابو نہیں تھا۔لیکن چونک کر فرمایا۔۔۔۔ کیا بکتے ہو؟ ادب و انشاء یا شعرو شاعری کی بات کرو، کسی نے فوراً ہی افلاطون کی طرف رخ موڑ دیا،ان کے مکالمات کے بابت کیا خیال ہے؟ ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا، مگر اس وقت وہ اپنے موڈ میں تھے۔ فرمایا اجی پوچھو یہ کہ ہم کون ہیں، یہ ارسطو، افلاطون یا سقراط آج ہوتے تو ہمارے حلقے میں بیٹھتے۔ ہمیں ان سے کیا کہ ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں۔
اس لڑکھڑاتی ہوئی آواز سے فائدہ اٹھا کر ایک ظالم قسم کے کمیونسٹ نے سوال کیا۔ آپ کا حضرت محمد ﷺ کے بارے میں کیا خیال ہے؟اللہ اللہ ایک شرابی جیسے کوئی برق تڑپی ہو۔بلّور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔کہنے لگے اوبدبخت! ایک عاصی سے سوال کرتاہے، ایک سیاہ رو سے پوچھتا ہے! ایک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے،تمام جسم کانپ رہا تھا، ایکا ایکی رونا شروع کر دیا، ایسی حالت میں تم نے یہ نام کیوں لیا۔ تمہیں جرات کیسے ہوئی؟گستاخ، بے ادب،باخدا دیوانہ باش وبامحمدؐ ہوشیار، اس شریر سوال پر توبہ کرو۔ خود قہروغضب کی تصویر ہو گئے۔ اس نوجوان کا حال یہ تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔اس نے بات کو موڑنا چاہا، مگر اختر کہاں سنتے تھے۔ اسے اٹھوا دیا، پھر خود اٹھ کر چلے گئے، تمام رات روتے رہے، کہتے تھے۔ ”یہ لوگ اتنے نڈر ہو گئے ہیں کہ آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں۔میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنا دینا چاہتے ہیں۔
یہ ہے۔
ایک گنہگار امتی ختم الرسل کا عشقِ والہانہ
آخر میں ا ختر شیرانی کی عشقِ رسول اللہؐ میں ڈوبی نعت کے اشعار ملاحظہ کیجیے۔
اگر اے نسیمِ سحر ترا گزر ہو دیارِ حجاز میں
مری چشمِ تر کا سلام کہنا حضورِ نواز میں
تمہیں حدِّ عقل نہ پا سکی فقط حال اتنا بتا سکی
کہ تم ایک جلوہ راز تھے جو عیاں ہے رنگِ مجاز میں
نہ جہاں میں راحتِ جاں ملی نہ متاع امن و اماں ملی
جو دوائے دردِ نہاں ملی تو ملی بہشت حجاز میں
عجب اک سرور سا چھا گیا، میری روح و دل میں سما گیا
تیرے نام سے آگیا مرے لب پہ جب بھی نماز میں
کروں نذر نغمہ جانفزا میں کہاں سے اختر بے نوا
کہ سوائے نالہ دل نہیں ہے میرے دل کی غمزدہ ساز میں

اپنا تبصرہ بھیجیں