صحابی کا خواب…. باجماعت نماز کی فضیلت

باجماعت نماز کے فضائل سے ہم سب مسلمان آگاہ ہیں. دور حاضر میں کام، کام اور کام کی وجہ سے ہم اکثر نماز کا باجماعت اہتمام نہیں کر پاتے .صحابی رسول عبید اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کبھی فجر اور عشاء کی نماز جماعت کے بغیر نہ پڑھی تھی . ایک رات خدا کی قدرت سے میرے ہاں مہمان آ گئے. اُن کی میزبانی میں مصروف رہا جس کی وجہ سے دیر ہو گئی اور میں عشاء کی نماز با جماعت پڑھنے سے محروم رہ گیا.میں اس خیال سے کہ شائد بصرہ کی کسی مسجد میں عشاء کی نماز با جماعت پڑھ سکوں، گھر سے نکلا مگر ہر مسجد میں نمازی نماز سے فارغ ہو چکے تھےاور مساجد بند ہو چکیں تھیں.اور میں اپنے گھر لوٹ آیا.میں نے سوچا کہ حدیث شریف میں با جماعت نماز کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے نماز کا ثواب ستائیس گنا بڑھ جاتا ہے. میں نے اکیلے ہی ستائیس بار عشاء کی نماز ادا کی کہ شائد اس فضیلت کو پا سکوں.رات کو خواب میں دیکھا کہ میں ایک ایسی جماعت کے ساتھ ہوں جو گھوڑوں پر سوار ہے . ہم آپس میں مقابلہ کرتے ہیں مگر پوری کوشش کے باوجود بھی میرا گھوڑا ان سے پیچھے رہ جاتا ہے.پھر ان میں سے کسی نے کہا کہ اپنے آپ کو مت تھکاؤ کیونکہ تمہارا گھوڑا ہمیں نہ پا سکے گا. میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا” ہم نے عشاء کی نماز با جماعت ادا کی تھی اور تو نے نہیں.اس لیے تو ہم سے نہیں مل پائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں