ساہیوال، سوشل سیکیورٹی آفس میں کروڑوں کا غبن

ساہیوال(بیورورپورٹ)ڈائریکٹوریٹ آ فس سوشل سیکیورٹی میں کروڑوں کے غبن کا انکشاف۔صنعتی اداروں سے وصول کردہ ٹیکس سرکاری کھاتہ کی بجائے جعلی بنک اکاؤنٹ میں جمع ہوتا رہا۔بنک اور محکمہ کی جعلی رسیدیں لگا کر کھاتے پورے کئے جاتے رہے۔ 8کروڑ سے زائد رقم خرد برد کر لی گئی۔ ڈائریکٹر سمیت ملوث عملہ زیر زمین چلا گیا۔ ڈائریکٹر،اسسٹنٹ ڈائریکٹر،کیشئیر، کلیکٹرسمیت بیلف بھی ملوث پائے جا رہے ہیں۔ ساہیوال میٹروپولیٹن کارپوریشن میں جعلسازی کی بنیاد پر کیڈر تبدیل کرنے اور غیر قانونی ترقیوں کے سکینڈل کے بعد ایک اور بڑے سرکاری ادارے میں کروڑوں کی خرد برد کا سکینڈل منظرعام پر آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ ماہانہ بنیادوں پر صنعتی اداروں سے کنٹری بیوشن وصول کرتا آ رہا ہے۔ صنعتی ادارے سرکاری واجبات محکمہ کے اہلکاروں کو چیک اور نقدی دونوں صورتوں میں کرتے آ رہے ہیں۔ محکمہ کے چند حاضر سروس بدعنوان افسر اور اہلکار سرکاری واجبات محکمہ کے بنک اکاؤنٹ میں جمع کروانے کی بجائے محکمہ کے نام پر کھلوائے گئے جعلی بنک اکاؤنٹ میں جمع کرواتے رہے۔ اس جعلسازی میں مبینہ طور پر ڈائریکٹر احمد علی سمیت اسسٹنٹ ڈائریکٹر، کیشئیر باسط نسیم و دیگر ملوث پائے جاتے ہیں۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق جعلی بنک اکاؤنٹ، جعلی بنک اور جعلی محکمانہ رسیدوں سمیت ریکارڈ ٹیمپرنگ کے ذریعے 8 کروڑ سے زائد کی رقوم خرد برد کی گئی ہیں۔ ڈائیریکٹر احمد علی سمیت تمام ملوث افراد دفتر سے غائب ہیں جنہوں نے موبائل بند کر رکھے ہیں۔ صدر مرکزی انجمن تاجران راؤ اشفاق علی خاں،صدر انجمن اصلاح معاشرہ مہر حسن عبداللہ نازاورکنوینئر سیٹیزن رائٹس کونسل عبدالرؤف نے اپنے مشترکہ بیان میں کمشنر نادر چٹھہ، ڈائریکٹر انٹی کرپشن سے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں