دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا قیام خوش آئند ہے: اکرام الحق

ساہیوال(ایس این این )جماعت اسلامی ساہیوال کے راہنما چوہدری محمد اکرام الحق (ایڈووکیٹ)نے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کو خوش آئند قرار دیا ہے،انھوں نے کہا کہ اس سے انتخابات کے نتائج سے متعلق تحفظات کو دورکرنے میں مددملے گی۔اتفاق رائے سے ٹی اوآرزتیارکیے جائیں اور مستقبل میں دھاندلی کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہئیں۔آئندہ صاف، شفاف اور غیرمتنازع انتخابات کا انعقاد کرکے ہی ملک میں مثبت تبدیلی کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روزتقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ2018کے عام انتخابات میں بہت بڑے پیمانے پرملک بھر میں دھاندلی کی گئی۔جیتنے والوں کواپنی جیت پر آج تک یقین نہیں آرہا جبکہ دیگر تمام جماعتیں انتخابی نتائج کودھاندلی زدہ قراردے کر مسترد کر چکی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایک مخصوص جماعت کو جتوانے کے لیے سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ملک وقوم کایہ بڑاالمیہ رہاہے کہ ہر دورحکومت میں انتخابات کو غیر متنازعہ بنانے کے لیے دعوے توکیے جاتے رہے اور انتخابی اصلاحات کاواویلابھی کیاجاتا رہا مگر عملاً اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔انہوں نے کہاکہ2018کے انتخابات سے قبل حلقہ بندیاں پری پول رگنگ کے زمرے میں آتی ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی اپنا کام پوری ذمہ داری سے اداکرتے ہوئے ذمہ داران کاتعین کرے گی اور دھاندلی کے اصل محرکات کو بے نقاب کیاجائے گا۔پاکستان کی تاریخ میں ہونے والے تمام انتخابات پر دھاندلی کے سنگین الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 1970سے لے کر آج تک جتنے بھی الیکشن ہوئے تمام انتخابات پردھاندلے کے الزام لگے۔ ملک کو درست سمت چلانے کے لیے انتخابی دھاندلی کاراستہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے روکاجائے اورآزاد الیکشن کمیشن قائم کیاجائے۔چوہدری محمد اکرام الحق(ایڈووکیٹ) نے مزیدکہاکہ الیکشن کمیشن اگر اپنے قواعدوضوابط پر سختی سے عمل درآمد کویقینی بناتاتو آج صورتحال مختلف ہوتی۔2018کے الیکشن میں دھاندلی کے باوجود موجودہ جمہوری نظام کو ہر صورت میں چلنا چاہئے۔تحریک انصاف کی نئی حکومت کواپوزیشن کے جائز مطالبات حل کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں