متنازعہ بیان، سپریم کورٹ کا نوٹس، غیر جانبدار کمیشن تحقیق کرے: شوکت صدیقی

راولپنڈی(ایس این این)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاب نثار نے جسٹس شوکت صدیقی کی تقریر میں ریاستی اداروں پر لگائے جانے والے الزامات کا نوٹس لے لیا ہے جبکہ جسٹس شوکت صدیقی نے اس حوالے سے ایسے جج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے جس نے پی سی او کے تحت حلف نہ لیا ہو۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے گذشتہ روز اپنی تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ آئی ایس آئی عدالتی معاملات کو مینوپلیٹ کرنے میں پوری طرح ملوث ہے اور آئی ایس آئی کی مرضی کے فیصلے دینے پر انھیں وقت سے پہلے چیف جسٹس بنوانے اور ان کے خلاف دائر ریفرنس ختم کروانے کی پیشکش کی گئی تھی۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں بھی چیف جسٹس سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ان الزامات کی جانچ کے لیے کارروائی کریں۔
سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد اتوار کی شام کو جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس صاحب ‘آپ کی جانب سے میرے خلاف ایسے غصے کا اظہار نہ پہلی بار ہوا ہے اور نہ ہی کوئی انوکھی بات ہے۔’
‘ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب انکوائری کرنے کی درخواست کے جواب میں میری بھی درخواست ہے کہ ایک کمیشن قائم کیا جائے جو اس پورے سلسلے کی صداقت کے بارے میں تحقیق کر سکے۔’شوکت صدیقی نے کہا کہ اگر ان کی جانب سے لگائے گئے الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو وہ اس کی سزا بھگتنے کو تیار ہیں لیکن دوسری جانب اگر ان کے الزامات صحیح ثابت ہوں تو ‘ان لوگوں کی کیا سزا ہوگی جنھوں نے عدلیہ کے عمل میں دخل اندازی کی ہے، چاہے وہ حاضر سروس ہی کیوں نہ ہوں۔’اس کے علاوہ شوکت صدیقی نے کہا کہ وہ ‘معزز چیف جسٹس سے درخواست کرتے ہیں کہ اس کمیشن کی سماعت وکلا برادری، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں کے سامنے کی جائے۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں