کہیں عام انتخابات 2018 التوا کا شکار تو نہیں ہوں گے؟ پڑھئیے تجزیہ

ساہیوال(تجزیہ ک.ب.ک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2018 کے عام انتخابات کے شیڈول اور تاریخ کا اعلان تو کر ہی دیا ہے مگر اس شیڈول سے قبل ہی مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ آوازیں کافی بلند سنائی دیتی ہیں کہ عام انتخابات التوا کا شکار ہو جائیں گے. انتخابات ہو سکتا ہے کہ 2018 ہی میں‌ ہوں مگر یہ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق نہیں‌ہوں گے اور جولائی کی بجائے اگست یا ستمبر کے اوائل تک ملتوی کر دئیے جائیں گے. اس ضمن میں ایک قرار داد بلوچستان اسمبلی میں پیش بھی کی جا چکی ہے. ہم ان معروضات پر غور کریں گے جن کی بنا پر انتخابات کے التوا کا شور بلند ہے.
1. جولائی میں پاکستانی عوام میں سے کافی لوگ حج بیت اللہ کی سعادت کے لیے سعودی عرب میں ہوں گے اسے انتخابی عمل کے التوا کا جواز بنایا جا رہا ہے. اس سلسلے میں قبل از وقت بیلٹ پولنگ کی تجویز بھی دی جا رہی ہے کہ جس طرح انتخابی عملہ اپنا ووٹ قبل از وقت کاسٹ کرتا ہے بالکل اسی طرح حجاج کرام کا حق رائے دہی بھی قبل از وقت استعمال کروا لیا جائے.
2. مون سون سیزن اور سیلابی کیفیات بھی انتخابی عمل پر اثرانداز ہو سکتی ہیں اس لیے پولنگ مون سون کے بعد رکھی جائے تا کہ لوگوں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے.
3. پاکستان میں ہونے والی مردم شماری کی روشنی میں جو حلقہ بندیاں کی گئی ہیں بعض سیاسی اور سماجی گروہ اس پر معترض ہیں. انتخابی شیڈول کا اعلان ہوتے ہیں پہلے 4 اور بعد ازاں 8 شہروں کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دی جا چکی ہیں. نئی حلقہ بندیوں میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ انتخابی فہرستیں اور حلقہ جات کے نمبر از سر نو ترتیب دینا پڑیں گے.
نئے انتخابات پر 20 ارب روپے کے اخراجات کا تخمینہ ہے جوملکی تاریخ کے سب سے مہنگے عام انتخابات ہوں گے۔ 2008 میں ایک ارب 85 کروڑ جبکہ 2013 کے انتخابات پر 4 ارب 73 کروڑ روپے کےاخراجات آئے تھے۔
اگر سیاسی فضا پر نظر دوڑائی جائے تو تمام سیاسی جماعتیں اس پر متفق ہیں کہ انتخابات وقت پر منعقد ہوں تا ہم انعقاد شفاف ہو نا لازمی امر ہے. الیکشن کمیشن کو ان تناظر میں ابھی ایک فیصلہ کر لینا چاہیئے کیونکہ شیڈول کی تبدیلی کو بعض جماعتیں قبل از انتخابات دھاندلی کا نام دے سکتی ہیں.
گزشتہ برس ہونے والی نئی مردم شماری میں ہم سب 20 کروڑ سے زائد ہوچکے ہیں، نئی حلقہ بندیاں ہوچکیں تاہم وفاقی اور صوبائی نشستوں میں ابھی تک اضافہ نہیں ہوا۔ قومی اسمبلی وصوبائی اسمبلیوں کی 849 جنرل نشستوں پر انتخابات ایک ہی روز ہوں گے جس میں قومی اسمبلی کی 272، پنجاب کی 279، سندھ کی 130، خیبرپختونخواہ کی 99 جبکہ بلوچستان کی 51 جنرل نشستیں شامل ہیں۔الیکشن کمیشن اس بات کا اعادہ کر چکا ہے کہ انتخابات مقررہ شیڈول کے مطابق 25 جولائی کو ہوں گے. اب دیکھئیے سوشل میڈیا پر انتخابات کے التوا کی خبریں درست ہوتی ہیں یا واقعی الیکشن 25 جولائی کو انعقاد پذیر ہوتے ہیں؟ آنے والے چند روز اس امر کا حتمی فیصلہ کرنے میں معاون ثابت ہوں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں