”پیپے والے“ —- ک. کہانی — کاشف بشیر کاشف

”پیپے والے“

بابا جان: سنا ہے کسی دور میں ”پیپے والے“ لوگوں کو سحری میں جگانےکے لیے آیا کرتے تھے؟
ہا ں بیٹا، نہ صرف پیپے والے بلکہ ڈھول والے بھی ڈھول بجا کر لوگوں کو جگاتے تھے۔عید کے دن لوگ انھیں ”ہدیہ“ دیتے تھے۔ یہ برصغیر کی روایت تھی۔افطار کے وقت بھی گولہ چھوٹنے پر روزہ افطار کیا جاتا تھا۔میں نے ننھے علی کی بات کا جواب دیا۔
مگر اب۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ اب ایسا کیوں نہیں ہوتا؟
اب ٹی وی چینل کے اینکر سحرو افطار کی نشریات میں یہ فریضہ انجام دیتے ہیں۔ میں نے جواب دیا۔
تو کیا یہ بھی پیپے والے ہیں ناں؟؟؟
شاید۔۔۔۔میرا جواب مبہم تھا۔
ہم انھیں”ہدیہ “ کیوں نہیں دیتے؟؟؟
اب انھیں ہدیے کی ضرورت نہیں ۔یہ پیپے والے لوگوں کو گاڑیاں دیتے ہیں اور کبھی کبھار تو بچے بھی۔شاید میرے جواب سے ننھے علی کی تسکین ہو گئی تھی وہ خاموش ہوگیا اور افطار کی نشریات دیکھنے لگا جس میں اینکر ایک نوجوان کو ” آم“ چسوا رہا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں