ایک تصویر ۔۔۔ایک کہانی …. علی اکمل تصور

مبشر زیدی کو علی اکمل تصور کا کرارا جواب

” جاہل “

علی اکمل تصور

وہ ادیب تھا۔۔۔
مرکزی خیالات کی آمد میں وہ خود کفیل تھا۔۔۔الفاظ اس کے غلام تھے۔۔۔اس کا لکھا پڑھ کر پڑھنے والے جھوم اٹھتے تھے۔وہ نئے لکھنے والوں کے لئے رول ماڈل بن چکا تھا ۔اسے اپنی کہانی پر” غرور “تھا ۔
غرور تو ابلیس کو اپنی عبادت پر بھی تھا ۔مگر یہی غرور اسے لے ڈوبا۔ایک” انکار ” نے اس کا خانہ خراب کر دیا ۔پھر وہ مخلوق کا خانہ خراب کرنے نکل پڑا۔غرور کرنے والے اس کا تر نوالہ تھے۔اور وہ ادیب۔۔۔
ابلیس کا آسان ہدف۔۔۔
معاشرے کی برائیوں کو پکڑتے پکڑتے وہ مذاھب کی” برائیوں “کو پکڑنے لگا۔اس کے ہم خیال داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے لگے۔غرور اور اعتماد میں اضافہ ہوا تو اس نے الہامی کتابوں پر سوال اٹھا دیا ۔اس نے بعد از موت جنت میں مومنین کو ملنے والی آسائشوں کا مکروہ انداز میں مذاق اڑانے کی کوشش کی ۔
” کیا جنت میں لائبریری ہو گی۔۔۔؟”
” کیا جنت شراب کے پیاسوں اور سیکس کے بھوکوں کے لئے تخلیق کی گئی ہے ۔۔۔؟”
اس کے سوالوں کا تسلی بخش جواب موجود تھا ۔مگر وہ مطمئن ہونے والا نہیں تھا ۔اگر وہ مان لیتا تو اسے روشن خیال ادیب کون کہتا۔
ایمان کا ایک ہی درجہ ہے ۔اور وہ ہے۔۔۔
غیب پر ایمان ۔۔۔
وہ تو حاضر پر یقین رکھتا تھا ۔
پھر اس کے” حاضر “ہونے کا وقت آ پہنچا ۔وہ چپکے سے مر گیا ۔جب باطن کی آنکھ کھلی ۔تو اسے شدید تپش کا احساس ہوا ۔
وہ دوزخ کے دروازے پر کھڑا تھا ۔فرشتے اس پر مسلط تھے۔ان کے ہاتھوں میں دھکتے ہوئے کوڑے موجود تھے ۔کوڑے کی ایک ہی ضرب نے اسے تڑپنے پر مجبور کر دیا ۔وہ گرا اور پھر دوزخ کی آگ کی لپٹوں نے اسے نگل لیا ۔
اٹکتی سانسوں کے درمیان اس نے آہ بھری۔
اگر دوزخ کا وجود ہے تو جنت کا وجود بھی ضرور ہو گا۔
” الہامی کتابوں میں جنت میں لائبریری کے متعلق تو نہیں لکھا گیا لیکن جنت میں شراب بھی ہو گی اور حوریں بھی ہونگی۔مگر عیاشی کا تصور نہیں ہو گا۔۔۔
دنیا میں لائبریری کا وجود جاہلوں کے لئے ضروری ہے ۔جنت میں کوئی” جاہل “نہیں ہو گا ۔مگر ہاں۔۔۔
جاہلین دوزخ میں ہونگے۔اور انہیں کسی” لائبریری” کی ضرورت نہیں ہو گی۔۔۔
دوزخ میں اس کی” آمد “کے ساتھ ہی ایک اور” جاہل” کا اضافہ ہو چکا تھا ۔
……………………
ایک تصویر ۔۔۔ایک کہانی

اپنا تبصرہ بھیجیں