منہاج یونیورسٹی ، گرلز ہاسٹل میں کیا ہوا؟ جانیے اصل واقعہ

لاہور(ویب ڈیسک)منہاج یونیورسٹی لاہور کے گرلز ہاسٹل میں پاکستان عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری خرم نواز گنڈا پور کی طالبات پر برسنے اور دھمکی آمیز لہجے میں بات کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو خرم نواز گنڈا پور نے اس ویڈیو کے بارے وضاحتی بیان جاری کیا کہ مذکورہ طالبات ہاسٹل سے باہر جانا چاہتی تھیں جب انھیں‌روکا گیا تو انھوں نے ہاسٹل وارڈن سے بد تمیزی کی. 6 بجے کے بعد کسی بھی طالبہ کو ہاسٹل سے باہر جانے کی اجازت نہیں ،ہاسٹل میں رہائش پذیر 113 لڑکیاں باہر جانا چاہ رہی تھیں،وارڈن نے ان لڑکیوں کو روکا تو انہوں نےلڑکیوں نے سٹاف کے ساتھ بدتمیزی کی اور یرغمال بنا کر انہیں دھمکیاں دے رہی تھیں،پتا چلنے پر جب میں وہاں گیا تو بچیوں نے مجھے بھی برا بھلا کہا،میں نے لڑکیوں سے کہا کہ جو مسئلہ ہے وہ تحریری طور پر دیں اور جب میں نے منتشر ہونے کا کہا تو انہوں نے کہا ہم منتشر نہیں ہونگے۔تاہم اب منہاج یونیورسٹی کے بیت الزہرا ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبات نے پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہاسٹل میں سے کوئی ایک لڑکی بھی باہر گئی اور نہ ہی جانا چاہ رہی تھی،خرم نواز گنڈا پور نے ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبات کے ساتھ غیر انسانی رویہ اپنا کر زیادتی کی ہے ،ہمارے والدین کو تو 5 بجکر ایک منٹ پر بھی ہاسٹل میں آنے کی اجازت نہیں تاہم خرم نواز کس حیثیت سے رات 12 بجکر 19 منٹ پر سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ لڑکیوں کےہاسٹل میں آئے تھے ؟گرلز ہاسٹل میں رہائش پذیرلڑکیوں کے لئے اگر قانون ہے تو انتظامیہ میں شامل مردوں کے لئے کوئی قانون نہیں ،وہ جب دل چاہے منہ اٹھا کر اور کسی کو بتائے بغیر لڑکیوں کے ہاسٹلز میں آتے ہیں اور کوئی ان کو روکنے والا بھی نہیں ۔
خرم نواز گنڈا پور کے اس بیان کے بعد منہاج یونیورسٹی بیت الزہرا ہاسٹل میں رہائش پذیر لڑکیوں نے ذرائع کو بتایا کہ خرم نواز گنڈا پور کا یونیورسٹی ہاسٹل میں رہائش پذیر لڑکیوں پر باہر جانے کا الزام بے بنیاد ہے ،ہاسٹل کی کوئی ایک لڑکی بھی باہر گئی اور نہ ہی باہر جانے کی کوشش کی ,گذشتہ روز یونیورسٹی میں افطار پارٹی تھی جس پر بیت الزھرا کی لڑکیوں کو بھی دعوت تھی اور وائس چانسلر نے لیٹر بھی لکھا تھا ،116 لڑکیوں نے پاسز بھی حاصل کر لئے تھے ،اجازت نامے پر وی سی کے سائن تھے ،کرنل صاحب کے سائن تھے صرف ہاسٹل کی ایڈمنسٹریٹر صاحبہ کے دستخط نہیں تھے ،تمام تیاری پوری ہو چکی تھی اور کھانا بھی بن چکا تھا لیکن ایڈ منسٹریٹر نے طالبات کو افطار پارٹی میں جانے سے روک دیا ،طالبات نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور ہاسٹل انتظامیہ کو پیسے دیئے کہ ہمیں باہر سے افطاری کا سامان لا دیں،لیکن انتظامیہ نے 350 بچیوں میں سے صرف 35 چالیس لڑکیوں کے لئے افطاری کا سامان دیا اور باقی طالبات کے پیسے واپس کر دیئے ،ہاسٹل میں رہائش پذیر لڑکیوں میں سے بڑی تعداد نے تو افطاری بھی نہیں کی ،جب ہم نے ہاسٹل وارڈن سے اس بارے بات کی تو انہوں نے ہماری جائز بات ماننے کی بجائے خرم نواز گنڈا پور کو بلا لیا ،جنہوں نے ہماری بات سننے کی بجائے ہمارے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جیسے ہم ان کے زر خرید غلام ہیں۔
طالبات کا کہنا تھا کہ یہ الزام لگانا کہ لڑکیاں ہاسٹل سے باہر جانا چاہ رہی تھی سرا سر بے بنیاد اور جھوٹ ہے ،کوئی ایک لڑکی بھی ہاسٹل سے باہر گئی اور نہ ہی جانا چاہ رہی تھی ،کسی لڑکی نے سٹاف کے کسی فرد کو نہ تو یرغمال بنایا اور نہ ہی کوئی غیر اخلاقی حرکت کی ،ہم تو صرف اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر بڑے سلجھے انداز میں احتجاج کر رہے تھے ۔طالبات کا کہنا تھا کہ ہاسٹل میں کسی بھی لڑکی کے والدین کو 5 بجے کے بعد آنے کی اجازت نہیں ہے لیکن ہمیں بتایا جائے کہ خرم نواز گنڈا پور پہلے آئے تو ہاسٹل میں لڑکیوں کو شٹ اپ کال دے کر ٹی وی ٹاک شو میں شرکت کا کہہ کر چلے گئے اور پھر رات 12 بجکر 19 منٹ پر اپنے سیکیورٹی گارڈز اور ایک نقاب پوش شخص کے ساتھ کس حیثیت میں لڑکیوں کے ہاسٹل میں آ ئے تھے ؟ طالبات کا کہنا تھا کہ ہمارے پیرنٹس کو تو 5 بجے کے بعد اپنی بچیوں کو ملنے کی اجازت نہیں لیکن انتظامیہ میں شامل کوئی بھی شخص جب دل کرتا ہے لڑکیوں کے ہاسٹل میں آ جاتا ہے ،ان کو اس طرح بتائے بغیر گرلز ہاسٹل میں گھسنے کی اجازت کس نے اور کیوں دی ہے ؟۔طالبات کا کہنا تھا کہ یہاں رہائش پذیر لڑکیوں کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،میس کی صفائی نہ ہونے کے برابر ہے ،سحری و افطاری میں ٹائم کی پابندی بالکل بھی نہیں کی جاتی ،افطاری کے بعد ٹھنڈا پانی بھی نہیں ہوتا اور ہاسٹل میں ٹھنڈے پانی کی سہولت بھی موجود نہیں ہے ،سٹاف ممبرز کا طالبات کے ساتھ رویہ بھی انتہائی درشت ہے جبکہ ہاسٹل میں رہنے والی لڑکیوں کا یونیورسٹی تقریبات میں انتہائی خراب امیج پیش کیا جاتا ہے ،رات دس بجے کے بعد طالبات کو گروپ کی شکل میں پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی جبکہ یونیورسٹی سے باہر ہونے والے مقابلہ جات میں ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبات پر پابندی عائد کی ہوئی ہے ۔طالبات کا کہنا تھا کہ اگر ہاسٹل میں رہائش رکھنے والی کوئی بھی لڑکی بیمار ہو جائے تو ہسپتال یا ڈاکٹرز کے پاس لیجانے کے لئے بھی ہاسٹل انتظامیہ نے دوہرا معیار اپنا یا ہوا ہے ۔بیت الزہرا ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبات نے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اور ڈاکٹر حسن محی الدین قادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ہاسٹل میں رہنے والی طالبات کے مسائل خود سنیں اور اس سارے معاملے کی تحقیقات کرائیں اور جن لوگوں نے طالبات پر ہاسٹل سے باہر جانے کا الزام عائد کیا ہے انہیں فوری طور پر یونیورسٹی اور ہاسٹل کے معاملات سے الگ کیا جائے ۔ دوسری جانب چند لڑکیوں کا کہنا ہے کہ دھرنے کے دوران انھیں ڈھال بنا کر رکھا گیا اور رات گئے بھی وہ شاہرات پر موجود رہیں اس وقت عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری داد دیتے نہیں تھکتے تھے تاہم اب ان کا بدتمیزانہ رویہ سمجھ سے بالا تر ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں