گرمیت سنگھ خواتین کو کس طرح ہوس کا نشانہ بناتا تھا

نئی دہلی(آئی این پی ) بھار ت میں نام نہاد پیر گرو گرمیت سنگھ کے ہاتھوں ریپ کا نشانہ بننے والی 2خواتین پیروکار نے سی بی آئی ججوں کے سامنے اپنے بیانات میں اہم انکشاف کردیئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریپ کا شکار بننے والی عورتوں نے اپنے بیانات میں انکشاف کیا کہ گرو گرمیت سنگھ نے خواتین کو ریپ کا نشانہ بنانے کیلئے خفیہ سرنگ میں ایک کمرہ بنا رکھا تھا۔ اس خفیہ سرنگ میں گرمیت سنگھ کا ذاتی کمرہ تھا
جہاں کسی اور کو جانے کی اجازت نہ تھی۔ اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا ‘‘کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے خواتین پیروکاروں کی جانب سے ریکارڈ کرائے گئے بیانات پر مبنی دستاویزات حاصل کر لی ہیں جن میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ گرمیت سنگھ کے ڈیرہ سچا سودا پر ریپ کیلئے پتا جی کی معافی کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خفیہ سرنگ میں موجود گرو گرمیت سنگھ کے کمرے کی نگرانی کیلئے صرف خواتین شاگردوں کو ہی تعینات کیا جاتا تھا اور یہ ریپ کیلئے معافی کا کوڈ ورڈ استعمال کرتی تھیں۔28 فروری 2009کو عصمت دری سے بچنے والی ہریانا کے علاقے یامونا نگر کی رہائشی نے سی بی آئی کے جج اے کے ورما کو بتایا کہ اس نے جولائی 1999سے ڈیرہ میں رہنا شروع کیا اور اس کی وجہ اس کا بھائی تھا جسے مبینہ طور پر اپنی بہن کیلئے انصاف مانگنے پر قتل کر دیا گیا تھا۔اس نے بتایا کہ مجھے اس وقت کچھ بھی سمجھ نہیں آیا جب دیگر شاگردوں نے مجھ سے پوچھنا شروع کیا کہ کیا مجھے پتا جی کی معافی مل گئی ہے، اور جب 28 اور 29 اگست 1999کی درمیانی شب گرو گرمیت نے مجھے ریپ کا نشانہ بنایا تو مجھے علم ہوا کہ وہ کیا بات کرتی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں