انوکھا ”پاکستانی زن مرید“

لاہور (ویب نیوز) پاکستان کا ”جنونی رن مرید“ منظر عام پر، بیوی کی محبت میں ماں باپ کو چھوڑ دیا. ”جنونی رن مرید“ کے مطابق ماں باپ تو پھر مل جاتے ہیں، بیویاں نہیں ملتیں۔مذکورہ زن مرید ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جس نے خوب دھوم مچا رکھی ہے اور اسے دیکھنے والوں کیلئے ہنسی روکنا ممکن نہیں رہتا۔ ویڈیو کے مطابق مذکورہ شخص کی بیوی کا ساس سسر سے جھگڑا ہوا اور وہ الگ گھر میں رہنے لگی جس کے بعد بہت سے لوگوں نے شوہر کو اپنے ماں باپ سے صلح کا مشورہ دیا۔
یہ شخص اپنے کسی جاننے والے کے پاس آیا اور اپنی بپتا سناتے ہوئے گویا ہوا ”صبح آئے تھے میرے پاس اور کہہ رہے تھے کہ صلح کروا دیں۔ حاجی صاحب! ماں باپ تو پھر مل جاتے ہیں لیکن بیویاں کہاں ملتی ہیں۔ ابو کو روزانہ 500 روپے دیتا تھا تو گالیاں نکالتے تھے لیکن اپنے سسر کو 200 روپے روزانہ دیتا ہوں تو وہ ماتھا چومتا ہے۔اصل ماں باپ تو ساس اور سسر ہی ہوتے ہیں، اپنے ماں باپ بھی آج مر جائیں یا کل مر جائیں لیکن بیوی تو نہیں ملتی۔ اب کہتے ہیں کہ صلح کر لو تو میں نے کہا ہے کہ میرے ماں باپ میری بیوی سے معافی مانگ لیں میں گھر آ جاتا ہوں، میری کون سی لڑائی ہے۔“
اس موقع پر اس زن مرید نے نم آنکھوں اور کپکپاتی آواز کیساتھ بتایا کہ ”چھوٹے بھائی نے اسے مارا ہے۔ تین دن ہو گئے ہیں میرا دل روتا ہے، میرا کھانا کھانے کا بھی دل نہیں کرتا، چھوٹے بھائی کا کیا حق بنتا ہے اسے مارنے کا۔ ماں باپ تو پھر مل جاتے ہیں، بیویاں کہاں مل جاتی ہیں۔ اب میرے ماں باپ میری بیوی سے معافی مانگیں گے تو ہی میں واپس گھر جاﺅں گا۔ لوگوں سے کہتے ہیں کہ ہماری صلح کروائیں۔ میں پاگل ہوں کہ بیوی کی پٹائی کروا کر صلح کر لوں۔
میرے لئے وہ سب کچھ چھوڑ کر آئی ہے تو کیا میں اب اسے ذلیل کرواﺅں، وہ کسی کی بیٹی نہیں ہے۔ میری بڑی بہن لڑ کر اپنے گھر آئی تو میری ماں چپ نہیں کرتی تھی اور کہتی تھی کہ میری بیٹی گھر آ گئی ہے تو کیا میری بیوی کسی کی بیٹی نہیں ہے، ان کی بیٹیاں زیادہ اچھی ہے کیا، بیویاں کہاں ملتی ہیں، بیویاں کہاں ملتی ہیں؟عورت کی جس نے قدر نہیں کی وہ ذلیل ہی ہوتا ہے۔ پانچ لاکھ روپے کی کمیٹی نکلی تو چار مہینے میں مری چلا گیا، سب پیسے ختم ہوئے تو گھر آ گیا جس پر میرے والد نے گالیاں دیں تو میں نے کہا کہ میں نے کمائے تھے اور اپنی بیوی کو کھلائے ہیں۔
میں اپنی بیوی کو پاﺅں زمین پر نہیں لگانے دیتا، بچے خود سکول چھوڑ کر آتا ہوں، فرش دھوتا ہوں اور برتن بھی خود دھوتا ہوں، جب تک میں اپنی بیوی کی ٹانگیں نہ دبا لوں، مجھے نیند نہیں آتی، تین دن ہو گئے ہیں میں نے روٹی نہیں کھائی اور میں ہی جانتا ہوں کہ میں نے یہ دن کیسے گزارے ہیں۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں