عشق کے نرالے رنگ، جسے پڑھ کر آپ کی آنکھیں یقیناََ اشک بار ہو جائیں

بغداد شہر کی بات ہے کہ ایک بزرگ نانبائی بازار میں روٹیاں بیچ رہا تھا۔ اور آواز لگا رہا تھا کہ تازہ روٹی ایک درہم میںلے لو اور باسی روٹی دو درہم میں لے لو۔ لوگ اس کی یہ صدا سن کر بہت حیران ہو رہے تھے کہ کیا یہ شخص دیوانہ تو نہیں ۔ کیونکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ تازہ روٹی مہنگی ہو اور باسی روٹی سستی۔ خیر ایک شخص نے بزرگ نانبائی سے پوچھا ، بابا جی ! بغداد جیسے علم و فضل کے مینار شہر میں یہ کیسا سودا بیچ رہے ہو۔ باسی روٹی کی قیمت تو زیادہ ہونی چاہیے جبکہ باسی روٹی کی قیمت کم۔ مگر آپ کا حساب الٹا کیوں ہے؟بزرگ نانبائی بولے ۔ جناب!میں ٰ تو ایسے ہی سودا بیچوں گا آپ نے لینا ہے تو لے لیں۔
اُس شخص نے استفسار کیا چلیں ٹھیک ہے ،پر یہ تو بتائیں کہ معاملہ کیا ہے ،اس کے پیچھے کیا راز ہے؟ تو بزرگ نے جو جواب دیا اسے سن کر ہر عاشقِ نبی ﷺ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔اور اس بزرگ کے عشقِ نبی ﷺ پر دل عش عش کر اٹھتا ہے۔ بزرگ نے کہا ،تو سنو ! باسی روٹی اس لیے مہنگی ہے کیونکہ یہ باسی روٹی، تازہ روٹی سےمیرے کریم اور پیارے آقا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے زمانہ سے ایک دن زیادہ قریب ہے اور تازہ روٹی اس لیے سستی ہے کیونکہ یہ روٹی نبی ﷺ کے زمانہ سے ایک دن مزید دور ہے بس یہی قربت زمانہباسی روٹی کی قدرو قیمت کو زیادہ کرتی ہے۔ یہ جواب سن کر وہ شخص لاجواب ہو گیااور اس کا دل بھی عقیدت سے بھر گیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں