گرو رام رحیم سنگھ کیس کا فیصلہ، کل سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی ادارے اور دفاتر بندرکھنے کا حکم

نئی دہلی ( آن لائن )بھارت میں گذشتہ روز ہونے والے فسادات اور کل (سوموار کو ) ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ کے عصنت دری کیس کے فیصلے کے پیش نظر کشیدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ریاست ہریانہ اور بھارتی پنجاب کی حکومت نے آج سے منگل 28اگست تک موبائل اور انٹرنیٹ سروسز پر پابندی لگا دی ہے، کشیدگی پھیلنے کے خدشے کے باعث اترپردیش،ہریانہ اور پنجاب کے سرکاری و غیر سرکاری سکولز و کالجز اور حکومتی دفاترز کو بھی سوموار کے روز بند کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا،فوج کی 23کمپنیاں تعینات ۔
بھارتی نجی ٹی وی چینل ’’زی نیوز ‘‘ کے مطابق ہندوستان کے مذہبی پیشوا اور ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرو رام رحیم سنگھ کو دو خواتین سے عصت دری کا مجرم قرار دینے کے عدالتی فیصلے کے بعد ہندوستان میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جن میں 38افراد ہلاک اور 400سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے ،کشیدہ حالات کے پیش نظر بھارت کی تینوں ریاستوں کا کنٹرول فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ کل (سوموار کو ) گرو رام رحیم سنگھ کو اس کیس میں سزا سنائی جائے گی اور حالات ایک بار پھر کشیدہ ہونے کے خطرات پیدا ہو چکے ہیں ،حالات سے نمٹنے کے لئے دونوں ریاستوں ہریانہ اور بھارتی پنجاب نے ہونے والے فیصلے کے پیش نظر موبائل فون اور انٹر نیٹ سروسز تین روز بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج جگدیپ سنگھ نے 25اگست کو گرو رام رحیم سنگھ کو 2002ء میں اپنی دو خواتین مریدوں کو بے آبرو کرنے کا مجرم قرار دیا تو ہریانہ اور پنجاب جہاں اس کے لاکھوں حامی ہیں فسادات پھوٹ پڑے اور 38سے زائد افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ہونے والے فسادات کے نتیجے میں گرو رام رحیم سنگھ کے حامیوں اور سیکیورٹی گارڈز پر 52مقدمات درج کئے گئے ہیں جبکہ ایک ہزار کے قریب بلوائیوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں