برطانیہ کا نیا وزیر داخلہ،ساہیوال کے خاندان کاسپوت

لندن( ایس این این ) پاکستانی نژاد ساجد جاوید کو مستعفی ہونے والی وزیر داخلہ امبررڈ کی جگہ برطانیہ کا نیا وزیر داخلہ مقرر کردیا گیا ہے۔ساجد جاوید اس سے قبل وزیر برائے کمیونیٹیز کے عہدے پر فائز تھے جہاں انہوں نے 18 ماہ خدمات سر انجام دیں۔برطانوی وزیرداخلہ کے عہدے پر فائز ہونے پہلے مسلمان شخص ساجد جاوید کے والدین پاکستان کے علاقے ساہیوال سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جو 1960 کو برطانیہ میں آئے تھے اور ابتدا میں ڈرائیونگ کر کے گزر بسر کی۔ 48 سالہ ساجد جاوید برطانیہ میں ہی پیدا ہوئے اور یہی تعلیم مکمل کی۔ سیاست میں حصہ لینے سے قبل وہ ایک بینکر تھے۔ ساجد جاوید اپنی اہلیہ لارا اور 4 بچوں کے ہمراہ ووسٹر شائر میں رہائش پذیر ہیں۔
ساجد جاوید 5 دسمبر 1969ء کو برطانیہ کی کاؤنٹی یارکشائر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد 50 برس سے بھی زیادہ عرصہ پہلے ساہیوال کے ایک چھوٹے سے گاؤں‌ سے ہجرت کر کے برطانیہ آ گئے تھے۔ ساجد برطانیہ کی Conservative and Unionist Party سے تعلق رکھنے والے سیاست دان ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کی University of Exeter سے معیشت اور سیاست کی تعلیم حاصل کی۔ گریجویشن کے بعد انہوں نے نیویارک میں “چیز مین ہیٹن” بینک میں کام کیا۔
2000ء میں ساجد نے “ڈوئچے بینک” میں بطور مینجر شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں وہ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سربراہ بن گئے اور بینک کی انتظامیہ میں کئی عہدے سنبھالے۔ سال 2009ء میں انہوں نے بینکنگ سیکٹر کو خیرباد کہا اور سیاست کے میدان میں آ گئے۔
2010ء میں ساجد جاوید کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے پہلے مسلمان رکن پارلیمنٹ بن گئے۔ اکتوبر 2011ء میں انہیں برطانوی وزیر خزانہ کا خصوصی سکریٹری مقرر کیا گیا۔ انہوں نے وزارت خزانہ میں اقتصادی امور کے سکریٹری کے طور پر بھی کام کیا۔ بعد ازاں 7 اکتوبر 2013ء کو وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ساجد کو وزارت خزانہ میں وزیر مملکت کے عہدے پر مقرر کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں