آج یومِ مزدوراورچھٹی ہے، میرا فاقہ ہے! —– اختر سردار چودھری

اختر سردار چودھری

(اختر سردار چوہدری پاکستان کے نامور نوجوان کالم نگار ہیں. آپ کا تعلق ساہیوال کے چھوٹے سے شہر کسووال سے ہے مگر کالم نگاری کی وجہ سے چھوٹے شہر کے بڑے قلم کار ہیں اور کسووال کی پہچان کی ایک وجہ ان کے کالم ہیں)
اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی مزدور کے حقوق متعین کر دیے تھے۔ جس کے تحت مزدورکا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اُس کی مزدوری کا حق اداکرنے کا تعین کردیا گیا تھا اور ساتھ ہی مزدور کے بنیادی حقوق فراہم کرنے کے سلسلہ میں مکمل وضاحت کردی گئی تھی۔ جس کا اطلاق اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں یکساں گردانا جاتا ہے۔ اگرچہ اسلامی طریقہ کار کے متعین کردہ مزدوروں کے بنیادی حقوق فراہم کرنے کی زمہ داری اسلامی ممالک پر بھی عائد ہوتی ہے،مگر دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک ہی مزدوروں کے حقوق کو یکسر نظر انداز کرنے میں نہ صرف کوتاہی کررہے ہیں بلکہ غیر اسلامی ممالک کی نظروں میں بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ جبکہ انسانی حقوق کے حق میں زیادہ پرچار کرنیوالہ امریکہ جوپوری دنیا کو باور کرواتا چلا آرہا ہے کہ مزدوروں سمیت انسانی حقوق فراہم کرنے کا ٹھیکہ صرف امریکہ کے پاس ہے، جبکہ حقیقت اِس کے برعکس ہے۔ امریکہ کے اپنے ملک میں اور ملک سے باہر انسانی حقوق فراہم کرنیکے طریقہ کار میں واضع تضاد پایا جاتا ہے جس کا دنیا بھر کے ممالک کو بخوبی علم ہے۔محض انسانی حقوق کا رسمی جھنڈا اُٹھا کر دنیا کو بے و قوف نہیں بنایا جاسکتا۔ سبھی ممالک جانتے ہیں کہ مزدوروں سمیت انسانی حقوق کا برتاو یکساں ہونا چاہئے۔ مگر صد افسوس ایسا ممکن نہیں بنایا جارہا۔ یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں مزدوروں کے حق میں منا ئے جانے کے باوجود مزدوروں کو اپنا مکمل حق میسر نہیں ہے۔ ویسے بھی پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں مزدوری کرنے والوں کے حقوق کس طرح سلب کیے جارہے ہیں اسے مزدور طبقہ ہی جان سکتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر باقائدہ تقریبات کا اہتمام ہونیکے ساتھ ساتھ جلسے اور ریلیاں بھی نکالی جاتی ہیں جن میں حکومتی عہداروں سمیت ملک کے اہم سیاسی اور غیر سیاسی شخصیات مزدور ں کے حقوق فراہم کرنے میں رسمی بلند و بانگ دعوے کرنے کے خطابات کرتے ہیں۔ جبکہ بظاہر اِن شخصیات کا مقصد صرف اور صرف اپنی زاتی تشہیر ہو تا ہے اور جن کو مزدوروں کے حالات کا علم بھی نہیں ہوتا،حکمران اس دن مزدوروں کے لیے کچھ مراعات کا اعلان کرتے ہیں جو نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ حالنکہ یکم مئی کے عالمی دن کے موقع پر جس جوش و جذبہ کے تحت الیکٹرونکس اور پرنٹ میڈیا پر سپیشل پروگرام کا خصوصی اہتمام جاتا ہے جن میں مزدوروں کے حق میں رسمی قصیدے سنائے اور پڑھے جاتے جن کا عملی اعتبار سے کسی قسم کا تعلق نہیں ہوتا۔ وہ صرف ملکی اور غیر ملکی انسانی حقوق کی ٹھیکدار این جی اُوز کی شہرت حاصل کرنے کا مقصد ہی ایسے موقعوں کا فائدہ اُٹھانا ہے۔

سال تو سارا ہی گمنامی میں کٹ جاتا ہے
بس “یکم مئی” کو یہ لگتا ہے کہ مشہور ہوں میں
مزدورں کا عالمی دن مزدوروں کی فلاح و بہبود پر مبنی رسمی تقاریب کے تحت سارا دن یونہی گزر جاتا ہے لیکن مزدوروں کے حالات نہیں بدلتے۔ایسا ہی ہوتا آیا ہے،ہو رہا ہے۔ اس دن ان مزدوروں کی محرومیوں اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم پر افسوس کا جھوٹا چہرا سجائے خطاب کرنیوالے خو د محلات میں رہتے ہیں اوران کی اولادیں مہنگے ترین پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں جہاں لاکھوں روپے فیس کے عوض پڑھتے ہیں، ان کو کیا علم کہ مزدور ں کے بنیادی حقوق کیا ہوتا ہے،اور غربت کس بلا کا نام ہے۔ اِن کو کیا خبر کہ مزدور کے روز و شب کیسے درد انگیز گزرتے ہیں۔ تعجب ہے کہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے یکم مئی کے دن مزدور کے حق میں لمبی لمبی تقاریر کرتے ہیں،لیکن کیا ان تقریروں سے کسی مزدور کا پیٹ بھر سکتا ہے،بقول۔ جبار واصف
پیٹ بھر دیتا ہے حاکم مرا تقریروں سے
اُس کی اِس طفل تسلی پہ تو رنجُور ہوں میں
دین اسلام نے مزدوروں کے جو حقوق متعین کیے وہ سرمایہ دار ان کو نہیں دے رہے، بوجہ مزدور وں میں اتحاد نہیں ہے،کیونکہ مزدوروں کا لیڈر مزدور نہیں ہوتا،مزدور بھی اپنے جیسے مزدور کو اپنا لیڈر نہیں بناتے،ان کی تنظیموں کے رہنما لمبی کار والے ہوتے ہیں،کاش اس بات کی مزدوروں کو سمجھ آ سکے کہ ان کے حقوق کیا ہیں جو ان کو نہیں مل رہے اور یہ کہ اس کے لیے ان کو اتحاد کرنا ہے،اپنے میں سے اپنے جیسا لیڈر چننا ہے حق مانگے سے نہیں ملتا حق چھیننا پڑتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ داروں کو بھی اس حقیقت کو سمجھ جانا چاہیے کہ اس دنیا میں کوئی رہا نہیں ہے۔اور حقوق العباد کی معافی بھی نہیں ہے، ان کو اپنے زیر دستوں کا خیال رکھنا چاہیے،نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کردو۔
ہاتھ پاؤں یہ بتاتے ہیں کہ مزدور ہوں میں
اور ملبُوس بھی کہتا ہے کہ مجبور ہوں میں
مزدور کی تنخواہ کم از کم بارہ ہزار کے با ر بار اعلانات تو حکومت کی طرف سے ہوئے مگر بیچارے مزدورکی قسمت میں آج بھی سات ہزار ماہانہ ہیں بلکہ اس سے بھی کم ہے،پھر یہ کہ ڈیوٹی کا وقت 10 یا12گھنٹے ہے،حکومت اعلان تو کر دیتی ہے مگر اپنے کیے ہوئے اعلان پر عمل نہیں کرواتی،حکومت پاکستان میں کارخانوں،ملوں،فیکٹریوں،بھٹوں،ہوٹلوں،دکانوں، پرائیویٹ سکولوں وغیرہ میں سروے کیوں نہیں کرتی کہ ایک مزدور کو کیا دیہاڑی مل رہی ہے،اور اپنے ہی کیے اعلان پر عمل کیوں نہیں کرواتی۔ محنت کشوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق کوئی بھی حکومت دینے کو تیار نہیں ہے۔
اب مزدوروں کے حقوق کے لیے بننے والی ٹریڈ یونین چند ایسے افراد کی مٹھی میں ہیں جو حقیقت میں مزدوروں کے حقوق کے غاصب ہیں، کارخانوں میں معذور ہو کر بے کار ہو جانے والوں کی تعداد بھی کم نہیں۔اور کم دہاڑی پر کام کرنے والوں کے ساتھ ساتھ آج بھی 10 یا12 گھنٹے کام کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔پاکستان میں مزدور بھٹہ مزدور،چھابڑ ی فروش۔ٹھیلا والے،ملازمین،کلرک،چپڑاسی۔مالی،وغیرہ کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور وہ انتہائی تنگ دستی کی زندگی گزار رہے ہیں۔بے شک کہ اس دن پاکستان میں چھٹی ہوتی ہے لیکن مزدور کو اس دن دیہاڑی بھی نہیں ملتی۔
یومِ مزدور ہے، چھٹی ہے، مرا فاقہ ہے
پھر بھی یہ دن تو مناؤں گا کہ مزدور ہوں میں
طاقت ور نے کمزور کو غلام بنایا اور بعد ازاں انہی لوگوں سے جبری مشقت لینے لگے۔کمزوروں کو بیچا جانے لگا،ان کی بولیاں لگتی۔مظلوموں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی،وقت گزرتا گیا،اللہ تعالی اس غلامی سے نجات کے لیے مظلوموں میں اپنے انبیاء بھیجتا رہا،سائنس ترقی کرنے لگی،لوگوں میں شعور آنے لگا۔ مذاہب بھی آتے رہے محنت کش بغاوت کرتے،غلامی ملازمت میں بدلی،وہ وقت آیا جب یکم مئی 1886 ء کو امریکا کے صنعتی شہر شکا گو کے محنت کشوں نے اعلان بغاوت کر دیا۔
یہ محنت کش (HAY) مارکیٹ چوک پر جمع تھے،ان محنت کشوں نے اس وقت کے حکمرانوں، مل مالکوں، کارخانہ داروں، صنعت کاروں، سرمایہ داروں سے اپنا حق لینے کے لیے ہڑتال کی تھی اور کہا تھا کہ ہمارے اوقات کار مقرر کرو۔ ہمیں روزگار دو، ہماری تنخواہوں میں اضافہ کرو، سرمایہ داروں کو مزدوروں کا یہ نعرہ پسند نہ آیا۔ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ شکاگو کی سڑکوں پر مزدوروں کا خون بہنے لگا۔اسی دن ایک مزدور نے اپنے مزدور بھائی کے خون میں اپنی قمیض بھگو کر لہرائی یہ سرخ رنگ بعد میں دنیا بھر کے مزدوروں کا پرچم قرار پایا۔ آخر کار حکمرانوں نے محنت کشوں کے مطالبات تسلیم کیے اور اس طرح آٹھ گھنٹے اوقات کار مقرر ہوئے۔ یورپ میں اوقات 6 گھنٹے ہو گئے ہیں۔ ہمارے ملک پاکستان میں 1886ء سے زیادہ مشکلات ہیں۔
سب سے اہم یہ ہے کہ مزدور میں اتحاد نہیں ہے،پاکستان میں جو جماعتیں سیاسی،مذہبی ہیں سب مزدوروں کے حق کا نعرہ لگاتی ہیں اور مزدور ان سب میں تقسیم ہو چکا ہے۔اس طرح مزدور کی اپنی کوئی پاور نہیں رہی،یہ کہا جا سکتا ہے مزدور استعمال ہو رہا ہے،اس کی وجوہات میں اول تو مہنگائی، پھر بے روزگاری کا عفریت ہے، بیماری ہے،غربت کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتا اس لیے جاہل ہے یعنی جہالت ہے،مزدور کو اپنے حقوق کا علم ہی نہیں ہے، اسے یہ بھی علم نہیں کہ جن کے خلاف اسے بغاوت کرنی ہے انہی حکمرانوں، سرمایہ داروں، فرقہ پرستوں، سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اپنے اپنے مقاصد کی خاطر مذہبی،سیاسی،گروہ، حتیٰ کہ مزدورو ں کے حقوق کی نام نہاد تنظیمیں بنا لیں ہیں۔اس کے علاوہ مزدور سیاسی جماعتوں کے علاوہ مذہب کے نام پر، فرقہ پرستی کے لیے، زبان اور قومیت، لسانیت اور علاقے کی بنیاد پر تقسیم ہو کر اپنی طاقت کھو رہے ہیں اور اس کا ان کو شعور نہیں ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ مزدور کی ایوانوں میں سنی نہیں جا رہی۔اور جیسا کہ لکھا جا چکا ہے ہر سیاسی و مذہبی پارٹی کے منشور میں مزدوروں کے حقوق کی بات کی گئی ہے۔اس لیے آخر میں مجھے کہنا ہے کہ پاکستان کے محنت کشوں کو اپنے مقدر کا فیصلہ خود کرنا ہو گا۔کیونکہ:
بات سنتا نہیں میری کوئی ایوانوں میں
سب کے منشور میں گو “صاحبِ منشور” ہوں میں

اپنا تبصرہ بھیجیں