چپل بنانے والا — کراٹے کا چیمپئین کیسے بنا

عمران یوسفزئی

عمران خان یوسف زئی پشاور سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی ہیں.


یہ 2007 کی بات ہے، پشاور کے رہائشی علاقے رشید گڑھی کا رہنے والا نوجوان مراد حیدرآباد میں ہونے والی قومی کراٹے چیمپیئن شپ میں شرکت کے بعد واپس آ رہا تھا۔ اسے لینے کے لئے آنے والوں میں اس کے اہل خانہ سمیت اس کے دوست بھی تھے انہی میں ابراہیم بھی تھا۔ جو مراد کا ہمسایہ بھی تھا اور دوست بھا۔ 12 سالہ ابراہیم کے لئے یہ سب کچھ بہت ہی دلچسپ تھا، اس کا دوست مراد حیدرآباد سے قومی کراٹے چیمپیئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیت کر لوٹا تھا، اس کے دوست احباب اور اہلخانہ نے زبردست انداز میں اس کا استقبال کیا، اسے پھولوں کے ہار پہنائے گئے، دوستوں نے اسے کندھے پر اٹھا لیا، ابراہیم بھی اپنے دوست کی خوشی میں خوش تھا، وہ سب مراد کو کسی جلوس کی شکل میں گھر لائے تھے، راستے میں جسے جسے پتا چلتا وہ مراد اور اس کے والد اور دوستوں کو مبارکباد دیتا۔ رات کو ابراہیم سونے کے لئے لیٹا تو اس کی آنکھوں کے سامنے مراد اور اس کے استقبال کے مناظر گھوم رہے تھے، اس کا دل چاہا کہ وہ بھی کسی دن ایسا ہی کوئی اہم کارنامہ سرانجام دے کر واپس آئے اور اس کے گھر والے اس کا استقبال کریں، اسے پھولوں کے ہار پہنائے جائیں، دوست اسے کندھے پر اٹھا لیں اور۔۔۔۔۔ــ’’اودہ شہ مردارا، صبا بہ سکول تہ نہ زے‘‘ (سو جاؤ مردار، صبح سکول نہیں جانا) اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ سوچتا اس کے والد کی کڑک دار آواز نے اسے ڈرا دیا۔ اس نے جلدی سے اپنے ذہن میں آئے خیالات جھٹکے اور پھر کب نیند کی دیوی اسے خوابوں کی دنیا میں لے گئی اسے پتا ہی نہیں چلا، خواب میں اس نے دیکھا کہ وہ باہر کے ملک سے کوئی مقابلہ جیت کر لوٹا ہے اور پورا شہر اس کے استقبال کے لئے امڈ آیا ہے، لوگ اسے پھولوں کے ہار پہنا رہے ہیں، دوستوں نے اسے کندھے پر اٹھایا ہوا ہے۔ یہ اور ایسے بہت سے خواب دیکھتے دیکھتے صبح ہو گئی اور پھر روزمرہ کے مطابق وہ ناشتے کے بعد سکول اور سکول کے بعد والد کے پاس دکان پر پہنچ گیا۔

اس کے والد مختیار خان جہانگیر پورہ بازار میں چپلوں کے کاریگر تھے، سکول کے بعد اسے ان کا ہاتھ بٹانے کے لئے دکان جانا ہوتا تھا پھر شام تک وہ وہاں کام کرتا، رات کو گھر آںے اور کھانے کے بعد اسے اپنا ہوش بھی نہیں ہوتا تھا، صرف ایک اتوار کا دن ہوتا تھا جب وہ اپنے دوست مراد کے ساتھ صدر میں واقع قیوم اسٹیڈیم کے کراٹے سنٹر جاتا، مراد اپنی ٹریننگ کرتا اور ابراہیم اسے دلچسپی سے دیکھتا رہتا۔ یہی وجہ تھی کہ ابراہیم پورے ہفتے میں صرف ایک اتوار کے دن کا انتظار کرتا تھا۔ ایسے ہی ایک اتوار کے دن وہ مراد کے ساتھ کراٹے سنٹر پہنچا تو ٹریننگ کے لئے باقی لڑکے اس وقت نہیں آئے تھے، مراد نے کٹ پہنی اور وارم اپ کے بعد اکیلے پریکٹس کرنے لگا۔ اتنے میں اس نے ابراہیم کو بھی آواز دی اور کہا کہ آؤ آج تم بھی ٹریننگ کرو۔ ابراہیم حیران رہ گیا، اس نے اب تک صرف کراٹے کا کھیل دور سے دیکھا تھا، آج پہلی بار مراد نے اسے ٹریننگ کی دعوت دی تھی۔ ابراہیم بھی جوتے اتار کر کراٹے میٹ پر چڑھ گیا اور مراد کے ساتھ پریکٹس کرنے لگا، مراد نے کسی استاد کی طرح اسے سمجھانا شروع کیا اور یوں ابراہیم نے اپنی پہلی ٹریننگ کا آغاز کیا۔ ‘‘تم بہت اچھا کر رہے ہو، ابراہیم!’’ مراد نے اسے بتایا۔ ‘‘اگر تم روزانہ پریکٹس کرو تو اچھے کھلاڑی بن سکتے ہو۔’’ مراد نے کہا تو ابراہیم کا چہرہ کھل اٹھا، اس کی آنکھوں کے سامنے مقابلہ جیتنے سے لے کر استقبال کے مناظر گھوم گئے۔ ‘‘لیکن بابا اجازت نہیں دیں گے۔’’ ابراہیم نے اداس لہجے میں جواب دیا۔ ’’کوئی بات نہیں، ان سے میں خود بات کر لوں گا۔‘‘ مراد نے تسلی دی۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جب ابراہیم کو لگا کہ وہ اپنے خوابوں کی حقیقت پا سکتا ہے۔

ابراہیم کے والد نے واقعی مراد کی بات نہیں ٹالی اور ابراہیم کو روزانہ دکان سے تین گھنٹے کی چھٹی کی اجازت مل گئی، ایک گھنٹہ جانے اور آنے کے لئے اور دو گھنٹے کی ٹریننگ۔ یہاں سے آغاز ہوا ایک چپل بنانے والے کاریگر کے اندر چھپے چیمپیئن کا۔۔۔۔۔آج ابراہیم 22 سال کا ہے، کراٹے کے ساتھ وابستگی کے دس سال میں وہ پانچ مرتبہ پاکستان کا قومی چیمپئین بنا۔ 2012 اور 2013 کے علاوہ 2015، 16 اور 17 اس نے اپنی کیٹگری میں قومی چیمپیئن کی حیثیت سے گزارے۔ 2015ء اصل میں اس کے خوابوں کی تعبیر کا سال تھا جب اسے بھارت میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کے لئے منتخب کیا گیا، اس رات اسے خوشی کے مارے نیند نہیں آئی۔ اب ایک اہم مرحلہ آنے جانے کے ٹکٹ کا انتظام کرنا تھا۔ اس نے اپنے والد سے بات کی اور اس بار وہ بھی اپنے بیٹے کے خواب کو پورا کرنے میں اس کی مدد کے لئے تیار ہو گئے۔ انڈیا آنے جانے کا ٹکٹ اپنی جیب سے کرنے کے باوجود وہ خوش تھا کہ اپنے شہر اپنے ملک کی نمائندگی کرے گا۔ ابراہیم کا کہنا ہے کہ سیمی فائنل میں بھارت کے ہی ایک کھلاڑی کو اس کی سرزمین پر ہرانے کی خوشی سے بڑی خوشی شاید ہی اس دنیا میں کوئی اور ہو۔ جب وہ فتح کے بعد اپنا سبز ہلالی پرچم اپنے جسم پر لپیٹے فائیٹنگ رنگ کے اندر چکر لگا رہا تھا تو اس کی ٹیم کے چند لوگوں کے علاوہ شاید کوئی اور تالیاں بجانے والا نہیں تھا لیکن ابراہیم خیالوں میں پورے پاکستان کو اپنے لئے تالیاں بجاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ فائنل میں وہ ایران کے کھلاڑی سے ہار کر چاندی کے تمغے کا حقدار ٹھہرا لیکن اس کے نزدیک بھارت میں بھارت کے کھلاڑی کو ہرانے سے بڑا گولڈ میڈل اس کے لئے اور کوئی نہیں تھا۔ وطن واپسی پر وہ اسٹیڈیم میں اپنے والد، دوستوں اور علاقے کے دیگر لوگوں کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس کے والد نے اسے گلے لگا کر چوما اس کے علاقے کے لوگوں نے اسے مبارکباد دی، اسے پھولوں کے ہار پہنائے اور اس کے دوستوں نے اسے کندھے پر اٹھا لیا۔ آج اس کا خواب پورا ہو گیا تھا۔

دوسری مرتبہ اسے 2017ء میں سری لنکا میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں اپنے ملک کی نمائندگی کا موقع ملا وہاں بھی اس نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ دبئی میں ہونے والی کراٹے پریمیئر لیگ میں وہ فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا لیکن فائنل میں ایک ایک ایرانی کھلاڑی سے نہ جیت سکا۔ ابراہیم نے ثابت کر دیا تھا کہ کامیابی کا شارٹ کٹ کوئی نہیں ہے، محنت بھرپور اور لگن سچی ہو تو دنیا کے ہر میدان میں کامیابی ممکن ہے۔ میٹرک کرنے کے بعد ابراہیم نے تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیا لیکن کراٹے سے اس کا تعلق آج بھی قائم ہے۔ صبح سے شام 5 بجے تک دکان پر والد کا ہاتھ بٹانے کے بعد چپلوں کا یہ کاریگر قیوم اسٹیڈیم کے کراٹے ہال میں روزانہ دو گھنٹے کی پریکٹس کرتا ہے۔ ابراہیم حکومتی سرپرستی کے بغیر یہاں تک پہنچا ہے۔ اگر حکومتی سرپرستی ملے تو یہ نوجوان گولڈ میڈلز کے ڈھیر لگا سکتا ہے اور ایک ابراہیم ہی کیا ایسے بے شمار ہیرے ہمارے شہر اور صوبے میں مختلف کھیلوں میں موجود ہیں جنہیں ذرا سی توجہ اور سرپرستی ملے تو وہ دنیا کے ہر ملک میں سبز ہلالی پرچم لہرا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں