وکٹ گر گئی، خواجہ آصف تا حیات نا اہل

اسلام آباد(ایس این این) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر خارجہ خواجہ آصف نواز کی نااہلی سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے انھیں تاحیات نا اہل قرار دے دیا. عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ خواجہ آصف کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا، وہ 2013 کا الیکشن لڑنے کے اہل بھی نہیں تھے۔ تفصیلی فیصلے کے مطابق خواجہ آصف این اے 110 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے اہل نہیں تھے، عدالت کو منتخب نمائندوں کو نااہل کرنے کے لیے عدالتی اختیار استعمال کرنا بہتر نہیں لگتا، سیاسی قوتوں کو اپنے تنازعات سیاسی فورم پر حل کرنے چاہیئں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سیاسی معاملات عدالتوں میں آنے سے باقی سائلین کا وقت ضائع ہوتا ہے، پارلیمنٹ وفاق کے اتحاد کی علامت ہے اور عزت و تکریم کی حقدار ہے، عوام کا پارلیمنٹ پر اعتماد اراکین کے کردار پر منحصر ہے، درخواست گزار کی سیاسی جماعت عدالت آنے کی بجائے پارلیمنٹ میں معاملہ اٹھاتی تو مناسب تھا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ خواجہ آصف نے نیشنل بنک آف دبئی کا بنک اکاوٴنٹ بھی کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا، خواجہ آصف کی جانب سے 2013 کے کاغذات نامزدگی کی بجائے 2015 میں پہلی بار یہ اکاوٴنٹ ظاہر کیا، مختلف اوقات میں خواجہ آصف نے اپنی آجر کمپنی کے ساتھ تین معاہدے کیے جن کے تحت خواجہ آصف کو اقامہ دیا گیا تھا، دستاویز کے مطابق کمپنی کے کل ملازمین کی تعداد 1250 تھی، خواجہ آصف کا نام منیجمنٹ کنسلٹنٹ کے طور پر سیریل نمبر 303 پر ہے، ان سے اوپر 302 اور نیچے سیریل پر مستری اور مزدور شامل ہیں۔
عدالت نے رجسٹرار ہائیکورٹ کو حکم دیا کہ فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی کو ارسال کی جائے۔ تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے اقامہ چھپانے پر وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا جو آج سنایا گیا۔
خواجہ آصف کو نا اہل قرار دینے کے لیے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے درخواست میں کہا تھا کہ وزیر خارجہ دبئی میں ایک نجی کمپنی کے ملازم ہیں جہاں سے وہ ماہانہ تنخواہ بھی حاصل کرتے ہیں، لیکن انہوں نے بینک اکاؤنٹ اور تنخواہ کی تفصیلات 2013 کے انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہیں کی، اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے، لہذا انھیں غلط بیانی پر نااہل کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں