ساہیوال: ڈاکٹرز انسانی خدمت کو قومی فریضہ سمجھیں: کمشنر

ساہیوال (بیورورپورٹ)کمشنر ساہیوال ڈویژن علی بہادر قاضی نے ڈاکٹرو ں پر زور دیاہے کہ وہ دکھی انسانیت کی خدمت اپنی مذہبی اور قومی ذمہ داری سمجھ کر ادا کریں تا کہ صحت کے شعبے پر عوام کا اعتماد بحال ہو اور حکومت کی طرف سے دی جانے والی سہولیات کا بہتر استعمال ممکن ہو ۔صوبائی حکومت نے صحت کے تمام مراکز اور ہسپتالوں پر مفت ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا ہے تا کہ غریب آدمی کو مکمل صحت یابی تک طبی سہولیات میسر آ سکیں ۔انہو ںنے یہ بات ضلع کونسل ہال میں جنوری سے جون2017کے دوران اعلیٰ کارکردگی پر ساہیوال ڈویژن کے60ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف میں کیش پرائز تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو صوبائی حکومت کی طرف سے شروع کئے گئے صحت خدمت ایوارڈ کا حصہ ہے۔ڈاکٹر ہیلتھ سروسز ساہیوال ڈاکٹر صادق سلیم‘ایڈیشنل کمشنر کو آرڈی نیشن میاں جمیل احمد اور تینوں اضلاع کے سی ای اوز ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق سپرا ‘ڈاکٹر سراج الدین شاد اور ڈاکٹر سیف اللہ‘ڈی ایچ او ڈاکٹر امتیاز احمد رانا اور ڈاکٹر مہر ارشاد احمد کے علاوہ ڈاکٹروں اور عملے کی بڑی تعداد نے بھی تقریب میں شرکت کی ۔کمشنر نے کہا کہ پنجاب حکومت تعلیم اور صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور دونوں شعبوں کی سروس ڈیلوری میں بہت بہتری بھی آئی ہے جسے برقرار رکھا جانا چاہیے۔انہو ںنے محکمہ صحت پر زور دیا کہ وہ مریضوں کو بنیادی مراکز صحت پر ہی طبی سہولیات ممکن بنائیں تا کہ انہیں تحصیل اور ضلعی ہسپتالوں میں آنے کی ضرورت نہ پڑے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر صادق سلیم نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے ڈویژن کے 60افراد میں 57لاکھ 72ہزار روپے کیشن انعامات تقسیم کئے جا رہے ہیں جن میں 21لاکھ روپے ضلع ساہیوال کے 25‘15لاکھ 78ہزا ر روپے‘ اوکاڑہ کے10 اور 20لاکھ 94ہزار روپے‘ ضلع پاکپتن کے 21جن میں طبی عملہ بھی شامل ہے تا کہ دوسرے ڈاکٹروں اور عملے کو بھی بہتر کارکردگی دکھانے کی ترغیب ملے۔ انہوںنے بتایا کہ محکمہ صحت میں جزا اور سز اکے تصور کو فروغ دیا گیا ہے اور انعامات کے ساتھ ساتھ کام نہ کرنے والوں کو سخت سزائیں بھی دی جا رہی ہیں اور کئی کام نہ کرنے والے ملازمین کو نوکریوں سے بھی نکالا جا چکا ہے۔انہو ںنے بتایا کہ عطائیت کے خلاف مہم کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے رش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹروں اور طبی عملے پر کام کے دبائو میں اضافہ ہوا ہے لیکن ا س کے باوجود ہر شخص کو چیک کر کے دوائی دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران ایسے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جنہوںنے اپنی ڈگریوں کو کرائے پر دے رکھا ہے اور بورڈز پر صر ف ان کے نام ہیں جبکہ کلینکس عطائی چلا رہے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں