ماں کے پاؤں ——– خالد مسعود خان (منتخب کالم)

میں نے یہ منظر دوسری بار دیکھا، پہلی بار بھی جہاز میں ہی دیکھا تھا اور اب دوسری بار بھی جہاز میں سفر کے دوران، پہلی بار شاید پانچ یا چھ برس پیشتر بھی برطانیہ کے سفر کے دوران اور اس بار بھی برطانیہ ہی کے سفر کے دوران۔
بزگوار کی عمر پچھتر اسّی سال کے لگ بھگ ہوگی‘ وہ وہیل چیئر سے اترنے لگے تو ساتھ آئے ہوئے شخص نے‘ جس کی عمر چالیس بیالیس سال کے لگ بھگ تھی، ممکن ہے کچھ کم یا زیادہ ہو؛ تاہم میرا اندازہ یہی تھا‘ نے انہیں روک دیا۔ وہیل چیئر والے نے بزرگ نے اسے کھڑا کرنے کیلئے آگے آنے کی کوشش کی مگر ان کے ہمراہ آنے والے نے انہیں روک دیا اور خود زمین پر بیٹھ کر بزرگ کے پائوں بڑی محبت سے تھوڑا اوپر اٹھائے۔ پائوں کے نیچے وہیل چیئر پر لگے پائوں رکھنے والے ”فٹ سٹینڈز‘‘ کو اٹھایا۔ بزرگ کے پائوں کو زمین پر لگا دیا۔ دائیں گھٹنے کو بڑے ہی آرام سے‘ ہاتھ سے سہارا دیا۔ یہ گھٹنا خاصا موٹا تھا، لگتا تھا کہ یا اس پر پلاسٹر ہے یہ کسی بیماری کی وجہ سے سُوجا ہوا ہے۔ بائیں گھٹنے کی نسبت اس کا سائز غیر معمولی تھا، اس نے اس گھٹنے کو ہاتھ سے پکڑ کر تھوڑا سیٹ کیا۔ پھر سہارا دے کر بزرگ کو کھڑا کیا، بزرگ کو کھڑا ہونے میں تھوڑی دقت تو ہوئی مگر جونہی وہ کھڑے ہوئے ساتھ آئے ہوئے شخص نے‘ جو ان کا بیٹا معلوم ہوتا تھا، دوسرے ہاتھ میں پکڑی دو چلنے والی چھڑیاں انہیں پکڑا دیں۔ یہ بیساکھیاں نہ تھیں بلکہ عین اسی لمبائی کے مطابق بنی ہوئی چھڑیاں تھیں جو انہیں چلنے کیلئے درکار تھیں۔ پکڑنے والی جگہوں پر عام مٹھیوں کی بجائے انگوٹھا اور ہاتھ کی تلی لٹکانے کی جگہ بنی ہوئی تھی۔ جہاز کے دروازے سے نشست تک محض چند قدم کی بات تھی، بزرگوار کی نشست جہاز میں داخل ہوتے ہی اکانومی کلاس کی پہلی قطار میں تھی۔ میری نشست کے بالکل ساتھ والی۔ یہ چند قدم کا فاصلہ بھی شاید مشکل ہوتا مگر اس جوان نے دونوں بازو پھیلا کر بزرگوار کے اردگرد اس طرح حفاظتی حصار سا بنایا ہوا تھا کہ کسی جانب سے رکاوٹ یا دھکے وغیرہ کا اندیشہ ہی ختم ہو گیا تھا۔ نشست پر بٹھانے سے پہلے اس نے دونوں چھڑیاں پکڑ کر نشست کے سامنے دیوار کے ساتھ رکھیں۔ بزرگوار کو سیٹ کے سامنے کھڑا کیا، دونوں ہاتھ نشست کے بازئوں پر ٹکائے، کمر کے گرد بازو حائل کئے اور نہایت ہی آرام سے نشست پر بٹھا دیا۔ پھر وہ خود ان کے سامنے زمیں پر بیٹھ گیا۔ دونوں پائوں سیدھے کئے۔ دائیں گھٹنے کو پہلے تھوڑا آگے کیا پھر دوبارہ پیچھے کیا، گھٹنے کو سہلایا۔ شلوار قمیص کو ہر جگہ سے سیدھا کیا اور پھر ساتھ کھڑا ہوگیا۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگا: یہ میرے ابا جی ہیں۔
بزرگوار کی سیٹ درمیان میں تھی، کھڑی والی سیٹ میرے پاس تھی اور راہداری والی کسی اور کے پاس، بزرگوار کے بیٹے کی سیٹ ظاہر ہے کہیں پیچھے تھی۔ میں بزرگوار کے بائیں طرف تھا۔ وہ جوان مسلسل اپنے والد کے ساتھ کھڑا تھا۔ ابھی جہاز کی روانگی میں پندرہ بیس منٹ تھے اور اس دوران وہ‘ نہ صرف یہ کہ کھڑا رہا بلکہ مسلسل حال چال پوچھتا رہا۔ کرسی کے آرامدہ ہونے، پشت کے مناسب ہونے، پائوں کے ٹھیک جگہ ہونے اور جہاز کے درجہ حرارت کے بارے دریافت کرتا تھا۔ اس کے والد محض سر ہلا کر اس کی باتوں کا جواب دے رہے تھے۔ پھر اس نے چائے اور پانی کا پوچھا، ساتھ ہی کہا کہ آپ تکلیف نہ کریں‘ یہ دس بار بھی چائے دیں گے اگر آپ نے پینی ہے تو بتائیں۔ بزرگ نے انکار میں سر ہلا دیا، پھر وہ دوبارہ زمین پر بیٹھ گیا، بائیں پائوں کا جوتا اتارا اور پائوں کی ہاتھ سے مالش کی، انہیں سہلایا اور پھر دوبارہ جوتا پہنا دیا۔ مجھے چار پانچ سال پہلے والا واقعہ یاد آ گیا۔
تب بھی میں اسی پہلی نشستوں والی قطار میں ہی تھا لیکن دوسری طرف راہداری والی نشست پر تھا، اس نشست کو انگریزی میں AISLE SEAT کہتے ہیں، بولتے وقت ایس غالب ہو جاتا ہے اور صرف ” آئل سیٹ‘‘ کہلاتی ہے۔ اس قطار میں دس سیٹیں تھیں۔ تین تین دونوں اطراف میں اور چار درمیان میں، میں تین نشستوں والی سائیڈ کی اندرونی نشست پر تھا اور ایک بزرگ خاتون درمیانی چار نشستوں کی باہر والی سائیڈ پر، یعنی میرے اور اس کے درمیان صرف چلنے والی راہداری تھی۔ اس خاتون کے ساتھ ایک نوجوان تھا نہایت ہی خوش شکل اور سمارٹ، خوبصورت میچنگ والے کپڑے، کوٹ، پینٹ، شرٹ اور ٹائی، کندھے سے لٹکا لیپ ٹاپ کا بیگ، نوجوان نے لیپ ٹاپ کندھے سے اتار کر جہاز کے بالائی خانے میں رکھا۔ ٹائی ڈھیلی کی، کوٹ اتار کر اپنی سیٹ پر رکھا اور زمین پر بیٹھ گیا۔ اپنی والدہ کے جوتے اتارے، جرابیں اتار کر سامنے دیوار کے ساتھ لگے سٹائل والے خانے میں رکھیں اور پائوں کو ہاتھوں سے سہلانا شروع کر دیا۔ دیکھا کہ آنے جانے والوں کو تھوڑی دقت ہو رہی ہے تو اندرونی سائیڈ پر تنگ جگہ پر بیٹھ گیا اور پائوں دباتا رہا تاوقتیکہ جہازی میزبانوں نے روانگی کی ہدایات دینا شروع کر دیں کہ اپنی نشست پر تشریف رکھیں۔ سیٹ بیلٹ باندھ لیں، کھانے کی میز ٹھیک طریقے سے بند کر دیں اور کرسی کی پشت سیدھی کریں، وغیرہ وغیر۔
سارا راستہ اس نوجوان نے اپنی ماں کا ایسے خیال رکھا کہ صرف محسوس کیا جا سکتا تھا‘ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کبھی کمبل اوڑھاتا، کبھی اتارتا۔ کبھی تکیہ سر کے نیچے رکھا اور کبھی بازو کے نیچے۔ کبھی چائے اس طرح پلائی کہ پرچ مسلسل اپنے ہاتھوں میں رکھی۔ کھانے کے وقت نیپکن لگایا اور ایک ایک دانہ صاف کیا۔ درمیان میں جہاز کا درجہ حرارت کم ہوگیا تو جرابیں دوبارہ پہنائیں میں نے اسے جرابیں پہناتے غور سے دیکھا۔ پہلے جرابیں سیدھی کیں پھر پوری فولڈ کیں۔ انگلیوں کو ٹھیک طریقہ سے داخل کیا، پنجے کے بعد ایڑیوں کو ٹھیک طریقہ سے جمایا، ٹخنوں سے لیکر اوپر تک نہایت سکون اور سلیقے سے جرابیں پہنائیں۔ پھر ایک بار دوبارہ جائزہ لیا، سارے بل نکالے اور جوتا پہنا دیا، دو تین گھنٹے بعد دوبارہ جوتے اتارے اور پائوں کو اچھی طرح سہلایا کہ لمبے سفر میں پائوں سوج جاتے ہیں۔
ایمانداری کی بات ہے کہ میں نے اپنی ماں کی حتیٰ المقدور خدمت کی ہے۔ عثمان آباد والے گھر کے صحن میں ماں جی کو وضو کرواتے ہوئے‘ ان کے پائوں سے ٹپکتا ہوا پانی چلو میں بھر کر گھونٹ بھرا تو ماں جی ناراض ہو گئیں کہ بھلا پائوں کا پانی بھی کوئی پیتا ہے؟ لیکن ایمانداری کی بات یہ بھی ہے کہ مجھے اس نوجوان پر حسرت آئی کہ کاش میں نے اپنے ماں کی ایسی خدمت کی ہوتی۔ آٹھ گھنٹے کے سفر میں اس کی آنکھ لگی اور اس کی ماں نے کروٹ لی تو وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کی والدہ نے اتنی بار کمبل اوڑھایا اور اتروایا کہ دوسری طرف میں بیٹھا ہوا تنگ پڑنے لگ گیا مگر مجال ہے جو اس نوجوان کے چہرے پر ایک بار بھی تنگ پڑنے کا تاثر ابھرا ہو۔ ہر بار، ہر کام اسی خوشی سے کرتے دیکھا کہ حیرت اور حسرت ہوئی، جہاز کی لینڈنگ کا اعلان ہوا تو دوبارہ جرابیں‘ جوتا پہنایا، جب وہ جوتا پہنا کر فارغ ہوا تو میں سیٹ سے اٹھا اور اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر اپنی بھیگی آنکھوں سے لگا لیا۔ اس نے ہاتھ کھینچ کر کہا کہ میرے ہاتھ جوتے والے ہیں، میں نے کہا: ماں کے جوتوں کو لگنے والے ہاتھوں سے پاک ہاتھ اور کون سے ہو سکتے ہیں؟ اور ماں کے پائوں بھلا کسی ایک کی ملکیت کب ہوتے ہیں؟
اس بات کو چار پانچ سال گزر گئے ہیں مجھے جب بھی وہ خوبرو نوجوان یاد آتا ہے تو ایک عجیب بے کلی سی، ایک حسرت سی اور ایک ہوک سی دل سے اٹھتی ہے کہ کاش وہ نوجوان مجھے سولہ سترہ سال پہلے ملا ہوتا، میں اس سے سیکھا ہوا سبق دہرا سکتا۔ لیکن ایسا کرنا اب ممکن نہیں، کبھی کبھی سفر کے دوران اس نوجوان کا سوچتا ہوں تو آنکھوں کے اس حصے میں ٹھنڈک سی محسوس ہوتی ہے جہاں اس کے ہاتھوں کو لگایا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں