متنازعہ فیصلوں نے سپریم کورٹ کو متنازعہ بنا دیا: اسفند یار ولی

بونیر(ایس این این)‌عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمااسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ سیاسی معاملات میں متنازعہ فیصلوں سے سپریم کورٹ کی حیثیت متنازعہ ہو رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ سے درخواست ہے کہ سیاسی معاملات میں الجھنے سے گریز کرے۔ ان معاملات کو پارلیمنٹ میں ہی حل ہونا چاہئے۔ بونیر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ کپتان کی ایک غلطی سے سیاسی معاملات عدالت تک جا پہنچے ۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کو جلد صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔ آپریشن کے نتیجے میں گھر بار چھوڑنے والے آئی ڈی پیز کی گھروں کو باعزت واپسی، مائنز کی صفائی اور چیک پوسٹیں ختم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کی بحالی اسلام کیلئے نہیں بلکہ اسلام آباد کیلئے ہے۔ 5سال تک ایک دینی جماعت مرکز میں اور دوسری صوبے میں اقتدار کے مزے لوٹتی ر ہیں۔ اقتدار کے خاتمے پر انہیں اسلام یاد آ گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب ایک فون کال پر فاٹا اصلاحات کا بل رکوا سکتے ہیں تو ایک فون پر شریعت کیوں نافذ نہیں کراتے۔ سارا کھیل اقتدار کیلئے ہے ۔ اسفندیار ولی نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے حوالے سے تاحال خدشات سامنے آ رہے ہیں۔اگر اسے ختم کرنے یا اس میں مزید کسی ترمیم کی کوشش کی گئی تو اے این پی بھرپور قوت کے ساتھ مزاحمت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پر مرکزی حکومت نے دھوکہ دیا ۔پختونوں و فاٹا کے عوام کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک اب چائنا پاکستان کی بجائے چائنہ پنجاب اکنامک کوریڈور تک محدود ہو کر رہ گیا جو کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں۔پنجاب بڑا بھائی ضرور ہے لیکن چھوٹے صوبے بڑے بھائی کے غلام نہیں ہیں۔بڑا بھائی ہمارا حق نہیں دے گا تو وہ ہمارے لئے قابل احترام نہیں رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں