ساہیوال کے معطل کانسٹیبل کی چیف جسٹس سے اپیل

ساہیوال(ایس این این) ساہیوال کے کانسٹیبل کی اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر چیف جسٹس سے از خود نوٹس لینے کی درخواست،دو سال سے اے جی آفس کے کلرلکس کو تنخواہوں کے اجرا کے لیے رشوت نہ دینے پر معطل ہونے والے چوہدری نوید اختر نے سوشل میڈیا پر چیف جسٹس کے نام پیغام شئیر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کی 9ماہ کی تنخواہیں اے جی آفس کے کلکرکس نے روک لیں، رشوت دینے پر بھی میری تنخواہیں منجمد اکائونٹس میں منتقل کی گئیں۔ جس پر میں نے انٹی کرپشن میں درخواست دی مگر ڈائریکٹر انٹی کرپشن مرزا شوکت نے مبینہ طور پر انٹی کرپشن کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔نوید اختر کا کہنا ہے کہ اکائونٹس آفس کے کلرکوں کی ملی بھگت سے میری اپیل آئی جی پنجاب کے سامنے پیش نہیں ہونے دی گئی۔نوید اختر نے مزید کہا کہ5ویں سکیل کے کلرک مافیا نے کروڑوں کی جائیدادیں بنا رکھی ہیں اور ان کا پیسا غلط اور غیر اخلاقی سرگرمیوں پر خرچ ہوتا ہے، سب کو علم ہونے کے باوجود حق دار کو حق نہیں دیا جاتا اور کلرک مافیا سے ساز باز کر کے حقدار کو دھمکایا جاتا ہے۔ نوید اختر نے کہا کہ ان کے پاس ساہیوال کے کلرک مافیا کے خلاف ناقابل تردید ہیں اگر چیف جسٹس نے ان کی بات کا نوٹس لیا تو وہ انھیں پیش کریں گے۔ انھوں نے مزید کیا کہا دیکھئیے اس ویڈیو میں:

اپنا تبصرہ بھیجیں