ساہیوال، لاری اڈہ بدبو اور گندگی کا مرکز

ساہیوال(ایس این این) ساہیوال کا جنرل بس اسٹینڈ گندگی اور تعفن کا مرکز بن گیا۔بس اسٹینڈ میں نشئیوں اور جواریوں کا ڈیرہ۔ناجائز موٹر سائیکل اسٹینڈ مالکان نے اڈے کو اپنی جاگیر کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا، انتظامیہ خاموش تماشائی بن گئی۔مسافر مشکلات کا شکار ہونے لگے۔ تفصیلات کے مطابق جنرل بس اسٹینڈ ساہیوال میں کوڑے کر کٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ مسافروں کے لیے بیت الخلاء کی عوامی سہولت دستیاب نہ ہونے سے بس عملہ اور مسافر گاڑیوں کے پیچھے چھپ کر رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے اڈے سے تعفن اور بدبو کے بھبھوکے اٹھتے رہتے ہیں۔

اڈے میں انتظار گاہ نہ ہونے کی وجہ سے مسافروں کو تعفن زدہ جگہ پر بیٹھنا پڑتا ہے جب کہ صاف اور ٹھنڈے پانی کی سہولیات بھی دستیاب نہیں۔ مسافروں کے مطابق انھی گندی جگہوں پر چائے، نان اور دیگر کھانے پینے کا سامان بیچنے والوں نے قبضہ کر رکھا ہے جن سے متعلقہ ادارے ’’مخصوص رقم‘‘ وصول کرتے ہیں اور یہ غیر معیاری اشیا بیچ کر مسافروں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔

فوڈ اتھارٹی بھی امراء کے لیے قائم ہوٹلوں پر چھاپے مارتی ہے مگر بس اسٹینڈ جیسے عوامی مقامات پر غیر معیاری اشیاء تیار کرنے کا سلسلہ کھلے عام جاری ہے۔ ہمارے نمائندے کے مطابق جنرل بس اسٹینڈ میں واقع دکانوں پرپرچی جوئے اور منشیات بیچنے کا دھندہ عام ہے۔ ٹرمینلز پر بھی نشئیوں نے ڈیرہ جما رکھا ہے۔جنرل بس اسٹینڈز میں موٹر سائیکل اسٹینڈز کے مالکان نے بس اسٹینڈ کی آدھی سے زیادہ حدود پر قبضہ کر رکھا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ریاض نامی ایک کنڈکٹر کے مطابق اڈے کے ٹھیکیدار کی جانب سے ہر پھیرے پر ہم سے 2سو روپے اڈہ وصول کیا جاتا ہے جب کہ ہم ہاکرز کو بھی 10،10روپے دیتے ہیں مگر اس کے باوجود بیت الخلاء کی سہولت نہیں دی گئی جس بنا پر مسافروں اور بس عملے کو بسوں کے پیچھے چھپ کر پیشاب کرنا پڑتا ہے۔بارش کے موسم میں اڈے میں کیچڑ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ عوامی مرکز پر عوام کی سہولیات سے محرومی حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ عوامی حلقوں نے انتظامیہ سے اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں