ک.کہانی تحریر: کاشف بشیر کاشف

سکیل
( حقیقت سے ماخوذ)
بشارت صاحب ایک سرکاری سکول میں ہیڈ ماسٹر ہیں۔وہ روزانہ صبح سات بجے واہ کینٹ سے راولپنڈی اپنے سکول جانے کےلئے بس پر سوار ہوتے ہیں۔پبلک ٹرانسپورٹ کی قلت اور رش کی وجہ سے اکثر انھیں بس میں کھڑے ہو کر پنڈی جانا پڑتا ہے۔ عید کی چھٹیوں کے بعد جب وہ پہلے دن سٹاپ پر آئے تو بیسیوں ملازمین اپنے دفاتر میں جانے کے لیے سٹاپ پر کھڑے تھے۔ بسیں اور ویگنیں بھری ہوئی آتیں اور اشارے کرنے کے باوجود سٹاپ کیے بغیر چلی جاتیں۔ آج حاضری کا پہلا دن تھا س لیے بشارت صاحب ہر حال میں سکول پہنچنا چاہتے تھے مگر ٹرانسپورٹ کی اس حالت نے انھیں پریشان کر کے رکھ دیا تھا۔
ہر آنے والی بس ان کی آخری امید ہوتی مگر بس کے نہ رکنے پر ان کی امید خاک میں مل جاتی۔ “تو نہیں اور سہی اور نہیں اور” کے مصداق وہ انتظار کے کرب سے گزر رہے تھے کہ انھوں نے پولیس یونفارم میں ایک شخص کو اپنی طرف آتے دیکھا۔یہ ایک کانسٹیبل تھا جو راولپنڈی کے تھانے میں تعینات تھا۔ بشارت صاحب کو پولیس والے زہر لگتے تھے کیونکہ اکثر پولیس والے بسوں میں “ملازم” کا لفظ ادا کر کے مفت سفر کرتے تھے اور بس عملہ بھی ان پولیس والوں کو وی آئی پی سیٹس پر بٹھاتا تھا بعض اوقات پولیس والوں کو بٹھانے کے لیے پہلے سے بیٹھی سواریوں کو بھی اٹھا دیا جاتا تھا۔ خود بشارت صاحب بھی اس تلخ تجربے سے گزر چکے تھے ۔ایک بارانھیں اٹھا کر بھی ایک سنتری کوان کی جگہ پربٹھایا گیا تھا۔انھوں نے بہت احتجاج کیا کہ وہ بھی ملازم ہیں مگر کنڈکٹر تو صرف “سنتری بادشاہ” کو ہی ملازم تصور کرتے تھے۔
اس کانسٹیبل کو بھی انھوں نے “وی آئی پی ” نشست کے مزے لوٹتے دیکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ پولیس والوں کے خلاف تھے۔
ہاں جی بادشاہو! گاڑی کا انتظار کر رہے ہو؟؟؟
ہاں۔۔۔۔۔ اور کیا جھک مار رہا ہوں۔۔۔بشارت صاحب نے بے رخی سے جواب دیا۔
سرکار! کس محکمے میں ملازم ہیں آپ؟ کانسٹیبل نے دوسرا سوال داغا۔
میں ہیڈ ماسٹر ہوں اٹھارویں سکیل میں۔اپنا سکیل بتاتے ہوئے بشارت صاحب کا سینہ فخر سے بلند ہو گیا۔
او جی کیا کرنا سکیل کو جب گاڑی والا گاڑی ہی نہ روکے اور کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑے۔پولیس والے نے طنز کیا۔
ہم وردی والے نہیں ہیں ناں۔۔۔۔تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ہماری بھی وردی ہوتی تو یہ نہ ہوتا خیر چھوڑو سکیل ہی تو طاقت ہے۔لوگ ہم سے ہی اپنے کاغذات کی تصدیق کروانے کے لیے خوار ہوتے ہیں۔ بشارت صاحب شکست تسلیم کرنے والوں میں سے نہ تھے۔
یہ گفتگو جاری تھی کہ “بس آگئی۔۔۔بس آگئی کا شور اٹھا” ۔
حسب سابق یہ بس بھی نہ رکنے کے موڈ میں تھی۔قبل اس کے بس والا اسے بھگا لے جاتا “کانسٹیبل” بس کے سامنے آگیا۔ بس والے نے بس روکی اورکانسٹیبل کو سوار کر لیا۔
بشارت صاحب نے بھی پائیدان پر پائوں رکھنے کی بہتیری کوشش کی مگر کنڈکٹر نے انھیں ہاتھ سے ہٹا دیا۔
باو جی! ہن سکیل تے بھہ کے آجانا ( با جی! اب سکیل پر بیٹھ کر آئیے گا) کانسٹیبل دروازے میں کھڑا انھیں زور زور سے کہہ رہا تھا۔ بشارت صاحب کا جی چاہ رہاتھا کہ وہ سکیل حکومت کے منہ پر دے ماریں اور کانسٹیبل کی وردی پہن لیں۔
(کاشف بشیر کاشف)
نوٹ: اس کہانی کے تمام کردار اور مقامات فرضی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں