سہیل ٹیپو کی موت خودکشی نہیں ، قتل کیا گیا: پوسٹ مارٹم رپورٹ

گوجرانوالا(ایس این این) ساہیوال سے تعلق رکھنے والے ڈی سی گوجرانوالہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا. پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سہیل ٹیپوکو تشدد کے بعد قتل کیا گیا، پوسٹ مارٹم روپورٹ میں انتہائی اہم انکشافات سامنے آ ئے ہیں.۔تفصیل کے مطابق ڈی سی گوجرانوالہ سہیل ٹیپو کچھ روز قبل پر اسرار طریقے سے اپنے سرکاری گھر پر مردہ پائے گئے تھے.ان کی ڈیڈ باڈی پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی جب کہ ان کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے. ان کی موت کو خودکشی قرار دیا جا رہا تھا اور اس حوالے سے کئی مفروضے قائم کیے جا رہے تھے. گوجرانوالہ کے تھانہ سول لائنز میں مقتول کے ماموں کی جانب سے جو مقدمہ درج کروایا گیا بھی قتل کی دفعات پر مشتمل تھا .پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ حقیقت ثابت ہو گئی ہے کہ ڈی سی گوجرانوالہ کو قتل کیا گیا ہے۔قانونی ماہرین نے سہیل احمد کی موت کو قتل قرار دے دیا ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ڈی سی گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو کے جسم پر چوٹوں کے 11 نشانات پائے گئے ہیں،ان کی گردن پر 2 گہرے زخموں کے نشانات ہیں جبکہ گردن پرخراشوں کے 6 نشان بھی موجود ہیں جب کہ ان کی کلائیوں پر3 خراشوں کے نشانات ہیں۔پوسٹ پارٹم رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ ضربات اور موت کے درمیان کا وقت 30 منٹ ہے جبکہ موت اور پوسٹ مارٹم کے درمیان 12گھنٹے کا وقفہ ہے۔ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سہیل ٹیپوکی موت ساڑھے 12 بجے ہوئی۔پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے پولیس کی تحقیقات کا رخ موڑ دیا ہے. اس ضمن میں پولیس نے تفتیش کا دائرہ کار خاندانی افراد تک پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں