ساہیوال سے تعلق رکھنے والے ڈی سی گوجرانوالہ کی پراسرارموت

ساہیوال( ایس این این) ساہیوال سے تعلق رکھنے والے جواں سال ڈی سی گوجرانوالا سہیل ٹیپو کی پر اسرار موت، قتل یا خودکشی، متوفی کی کمرے میں پنکھے سے جھولتی لاش قانونی و انتظامی اداروں کے لیے معمہ بن گئی. تفصیلات کے مطابق آج صبح ڈی سی گوجرانوالہ سہیل ٹیپو کی پنکھے سے جھولتی لاش ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی تھی. یہ اطلاع ملتے ہی انتظامی و قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی رہائش گاہ پہنچے. ابتدائی طور پر ان کی موت کو خود کشی قرار دیا جا رہا ہے تا ہم یہ امر غور طلب ہے ہے کہ متوفی کے دونوں ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے.

جب کہ لاش پنکھے سے جھول رہی تھی. سہیل ٹیپو کا تعلق ساہیوال سے تھا اور انھوں نے 1990-91 میں گورنمنٹ ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا. ساہیوال میں ان کے کلاس فیلوز کے مطابق سہیل ٹیپو ایک زندہ دل آدمی تھے ، ظاہری طور پر ان کی زندگی اطمینان اور اعتدال سے بھرپور تھی. سہیل ٹیپو کافی عرصہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرسنل سٹاف کے سرکردہ کارکن بھی رہ چکے ہیں. بعض لوگ ڈی سی گوجرانوالہ کی موت کو قتل قرار دے رہے ہیں‌تاہم یہ بات تحقیقات سے پتا چلے گی کہ یہ قتل تھا یا خود کشی. عوام کا کہنا ہے کہ جس ملک میں ڈی سی دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کی طرف مائل ہو جائے تو وہاں عام لوگوں کا کیا حال ہو گا. قتل کی صورت میں بھی ڈی سی گوجرانوالا کی موت انتظامی اداروں کی کارکر دگی پر ایک سوال ہے جن کے ہوتے ہوئے ایک اعلیٰ افسر قتل ہو گیا.ابتدائی روپرٹس کے مطابق فرانزک لیب روپرٹ کروائی جائے گی تاہم ڈاکٹرگلزار کے مطابق یہ واقعہ خودکشی کا نہیں لگتا. بظاہر لگتا ہے کہ رسی اور تار کی مدد سے سہیل ٹیپو کی گردن پر بل دئیے گئے اور ہاتھ پشت پر باندھ کر ان کی گردن کو تیز ڈور نما دھاگے سے کس دیا گیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں