پولیس اہل کار کی نجی ٹارچر سیل میں نوجوان سے زیادتی

لاہور(ایس این این) بند روڈ پر قائم پولیس کے نجی ٹارچر سیل میں نوجوان سے پولیس اہل کاروں کی جنسی زیادتی۔ ذرائع کے مطابق نوجوان مظفر اویس کو اس کے دوست کے ذریعے ادھار کی رقم کی واپسی کا جھانسا دے کر پولیس اہلکاروں نے تھانہ شیراکوٹ کے قریب بلوایا، اہلکاروں نے نوجوان آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر نجی ٹارچر سیل منتقل کیا گیا جہاں پولیس اہلکار شراب نوشی میں مصروف تھے۔
پولیس افسر عمران نے متاثرہ نوجوان سے کہا کہ میرے ساتھی پولیس اہلکار کی خواہش پوری کرو مگر نوجان کے انکار پر اسے باتھ روم میں بند کر دیا گیا اور مقابلے میں مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ بعد ازاں نشے میں دھت پولیس اہلکار شفاقت نے نوجوان سے زبردستی بدفعلی کی جب کہ پولیس افسر عمران سارے واقعے کی ویڈیو بناتا رہا۔ نوجوان کو موٹر سائیکل چوری کے الزام میں تھانہ شیراکوٹ میں بند کر دیا گیا اور واقعے کے بارے میں کسی کو بتانے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ ورثا کی آمد پر نوجوان کو رہا کیا گیا تو اس نے اپنے والد کو مطلع کیا۔ تاہم تھانہ شیراکوٹ کے ایس ایچ او نے اپنے نائب افسر عمران کے خلاف کارروائی سے معذوری ظاہر کردی۔ مقدمے کے باوجود پولیس حکام ملزم عمران کو بچانے کی کوششیں کررہے ہیں اور اس کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں