‘چیچہ وطنی شہر میں جرائم کی تازہ لہر’

تحریر: ارشد فاروق بٹ
چیچہ وطنی شہر کا شمار کبھی پنجاب کے پرامن ترین شہروں میں ہوتا تھا۔ ادبی سرگرمیاں اور مشاعرے شہر کی پہچان تھے جن میں وصی شاہ، امجد اسلام امجد اور احمد فراز جیسی ادبی شخصیات محفلوں کو چار چاند لگاتیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب شہر موجودہ سیاسی تعفن سے پاک تھا۔


جیسے جیسے الیکشن 2018 قریب آ رہا ہےچیچہ وطنی شہر میں سیاسی طاقتوں کی رسہ کشی نے شہر میں خوف کی فضا قائم کر دی ہے۔ دکانوں، اڈوں، ہوٹلوں اور گھروں پر سرعام فائرنگ، منشیات فروشی اور شہری حدود میں دن دیہاڑے ڈکیتی کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ ہونے سےیوں لگتا ہے جیسے مقتدر حلقوں نے شہر کو جرائم پیشہ افراد کے سپرد کر دیا ہو۔
ان حالات و واقعات کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پولیس بے بس تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ جرائم کی اس تازہ لہر کا ذمہ دار کون ہے؟ اس حوالے سے ایک سروے کے دوران شہر کی کچھ ممتاز ادبی، سیاسی و سماجی شخصیات کی آراء حاضر خدمت ہیں۔
محمد زبیر اسلم چیچہ وطنی کی واحد سیاسی جماعت تحریک احساس پاکستان کے بانی ممبر ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ طلباء اور نوجوانوں کا سیاسی شخصیات کی سرپرستی میں قانون شکن سرگرمیوں میں ملوث رہنا نہ ہی نئی بات ہے اور نہ ہی کسی سے ڈھکی چھپی چیز۔۔۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب یہ نوجوان یا تو ان سیاسی شخصیات کے ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں یا مقصد پورا ہونے کے بعد سیاستدان ان سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں متعدد کیسوں اور دشمنیوں میں پھنسے ان نوجوانوں کے پاس سوائے غنڈہ گردی کے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ جہاں تک بات ہے ہماری پولیس کی تو اس پر سیاسی چھاپ اورکمزور نطام انصاف پولیس کو ان نوجوانوں کے خلاف کاروائی سے باز رکھتا ہے اور نوجوانی اور سیاسی پشت پناہی اور چودھراہٹ کے نشے میں دھت نوجوان ہر آئے دن شہر کا امن و امان تہ و بالا رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں اس سب صورتحال کی ذمہ داری ہمارے سیاستدانوں پر ہے۔ اب ہم عوام کو چاہیئے کہ شہر اور اپنے بچوں کے وسیع تر مفاد میں اکٹھے ہو جائیں اور اس ایک نقطہ پر تمام لوگ سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایک ایسا لائحہ عمل وضع کریں جو اس مسئلے کا مستقل حل ہو۔ یہ ہمارا اور ہمارے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے


ہاتھ میں بچوں کے پتھر دینے والے سوچ لیں
اک دن ان کی زد میں تیرا سر بھی آئے گا
معروف شاعر اور کالم نگار سلمان بشیر شہر کے خراب حالات کا ذمہ دار مقتدر طبقے اور ان کے حواریوں کو سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذموم سیاسی مفادات کے لیے یہ سب کھیل رچایا جا رہا ہے۔ اداروں پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اختیارات کا ایک گھر منتقل ہو جانا اور اپوزیشن کا نہ ہونا شہر کے امن کو تباہ کر رہا ہے۔ایک خاندان کی من مرضی کا خمیازہ پورا شہر بھگت رہا ہے۔
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
معروف سیاسی گھرانے کے چشم وچراغ محمد احمد صفدر کی رائے میں شہر میں فائرنگ اور جرائم کے یہ تمام کیسز انفرادی ہیں۔ جو زیادہ تر ذاتی دشمنی کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ایم این اے چوہدری طفیل جٹ نے ڈکیتی کی بڑھتی وارداتوں پر ڈی پی او اور آر پی او سے بات کی ہے ۔ انہوں نے شہر میں پولیس چوکیاں اور گشت بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے جس کا اندازہ آپ کو شہر میں پولیس کی بھاری نفری کے گشت اور چیکنگ سے ہو گیا ہوگا۔
انجمن شہریاں چیچہ وطنی (رجسٹرڈ) کے سیکرٹری عابد مسعود ڈوگر شہر میں امن و امان کی مخدوش صورتحال پہ بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دو باتیں ہیں، الیکشن سے پھلے وہ لوگ جنہوں نے ان عناصر کو پالا ھے وہ چاھتے ھیں الیکشن سے پہلے انہیں کام میں لاکے الیکشن پر اثر انداز ہوا جائے۔دوسری بات سب سے پہلے سرپرستی کرنے والے سیاست دان ذمہ دار ھیں اور پھر پولیس جو اتنے زیادہ واقعات ہونے پر بھی ساکت اور جامد دکھائی دے رھی ھے۔
‎معروف سماجی شخصیت اور موبائل ایسوسی ایشن کے سربراہ ضیاء سیٹھی کہتے ہیں کہ سیاست دان اور طاقت کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ ساتھ اس وقت زیادہ موثر ہو جاتا ہے جب اس میں خوف کی لہر بھی شامل ہو جائے۔شہر چیچہ وطنی کے حالات ایک دن میں اس نہج پر نہیں پہنچے بلکہ اس میں مقامی سیاست دانوں نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ہمہ قسم کے گینگ وار پہلے مختلف ڈیروں کے مجاور بنے ہوئے تھے پھر اللہ نے انکے کام میں برکت ڈالی اور وہ ترقی کی منازل طے کرتے مختلف گروپوں میں تقسیم ہو گئے اور پھر اسی گروپنگ نے انہیں آپسی مخالفت کا کھیل رچانے کا موقع دیا اور پھر مقامی سیاست دانوں کی آپسی نفریتیں ایسی کام آئیں کہ ایسے گروپس کی طلب رسد سے بڑھ گئی اور آج یہ گروپس مجاوری چھوڑ کر مسند نشیں ہوئے ہوئے ہیں اور یہ سارے بچے مقامی سیاستدانوں کے پالے ہوئے ہیں مگر اب حالات یہ ہیں کہ بچے نا صرف بگڑ چکے ہیں بلکہ منہ زور بھی ہو چکے ہیں اور من مرضی پر اترے ہوئے ہیں۔اور یہ ان بچوں کی آپسی لڑائیاں ہیں جس سے شہر کے حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں اس سارے عمل میں پولیس جیسے منظم ادارے کی گردن توڑی گئی ہے اور اس کا سہرا بھی سیاست دانوں کو جاتا ہےاسکا حل ایک مضبوط اور باکردار آفیسر ہے جو سیاست سے بالاتر ہو کر شہر میں ناسور کی مانند پھیلے اس غنڈہ راج کو رام راج میں بدل دے۔مگر یہ کام اس وقت تک مستقل بنیادوں پر نہیں ہو سکتا جب تک مقامی سیاستدان اس معاملہ پر سر جوڑ کر نہیں بیٹھ جاتے اور خالص عوامی مفاد پر مبنی فیصلے نہیں کرتے۔
ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر منیر ابن رزمی کہتے ہیں کہ بے رحم احتساب وقت کی ضرورت ہے جس کے بغیر شہر چیچہ وطنی میں امن و امان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔
امن و امان کی مخدوش صورتحال کے حوالے سے چیچہ وطنی شہر کے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس افسران کے غیر ضروری تبادلے اور سیاسی دباؤ ختم کرنا ہو گا۔ ہمیں کام کرنے دیا جائے تو شہر میں امن و امان بحال کرنا کچھ مشکل نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں