ساہیوال: پاور سیکٹر کا قرضہ عوام پر ڈالنا قابل مذمت ہے: جماعت اسلامی

ساہیوال(ایس این این ) امیر جماعت اسلامی پی پی 222ساہیوال رانا زاہد فاروق نے کہاہے کہ پاور سیکٹر کا19.2ارب کا قرضہ بجلی صارفین سے وصول کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔حکومت نہ دہندہ اداروں سے بجلی کے بل وصول کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے جس سے سسٹم کو32ارب روپے سے زائد کانقصان برداشت کرناپڑاہے۔ اسی طرح لائن لائسزکی مد میں بھی واپڈاکوسالانہ360ارب روپے کانقصان ہورہاہے جس کی وجہ سے جہاں ایک طرف عوام کولوڈشیڈنگ کاعذاب برداشت کرنا پڑتاہے تووہاں دوسری طرف ٹیکسوں کی مد میں بھاری بھرکم بجلی کے بل بھی ہرماہ اداکرنے پڑرہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزمختلف عوامی وفود سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ چند دن پہلے وفاقی وزیر توانائی نے قوم کو گرمیوں میں لوڈشیڈنگ کی نوید سناتے ہوئے اس بات کابرملااعتراف کیاتھا کہ حکومت لائن لائسزکوکنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے اور حکومت مسلسل سبسڈی نہیں دے سکتی۔ابھی موسم گرما کا آغازبھی نہیں ہواکہ ملک بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔مرمت کے نام پر گھنٹوں بجلی بندرکھنا معمول بن چکا ہے۔انہوں نے کہاکہ 6ماہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کاخاتمہ کرنے کادعوہ کرنے والے حکمران اپنے پانچ سال پورے کرنے والے ہیں مگر ابھی تک لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے جتنے بھی وعدے کیے تھے ان میں سے ایک وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔مہنگائی،بیروزگاری،لوڈشیڈنگ،کرپشن، لاقانونیت اور دیگر مسائل میں کسی قسم کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔(ن) لیگ کی حکومت اپنے اقتدارکی پانچ سالہ مدت پوری کرنے والی ہے مگر ان پانچ سالوں میں عوام کو سوائے مسائل میں اضافے کے کچھ بھی نہیں ملا۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی بدولت وسائل سے مالامال ملک70برسوں سے اغیار کے سامنے کشکول پھیلانے پر مجبور ہے۔اگر حکومت وقت آج فیصلہ کرلے کہ ہم نے غیر ملکی امداد نہیں لینی اور اپنی ضروریات کو ملکی وسائل سے پوراکرناہے تو دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ جیسا سنگین مسئلہ بھی کچھ عرصے میں حل ہوجائے گا۔رانا زاہد فاروق نے مزید کہاکہ کالاباغ ڈیم قومی بقاکامنصوبہ ہے جس کی تکمیل سے50سے60لاکھ ایکڑبنجر زمین کو سیراب کرسکتے ہیں اوروافر مقدار میں بجلی کی پیداوار کویقینی بناسکتے ہیں۔توانائی بحران کے خاتمے کے لیے حکمران ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کا سہارالے کر وقت گزاری کررہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ توانائی بحران پر قاباپا نے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں