سگریٹ نوشی کی شکایت پر ڈی سی کا پروفیسر پر تشدد

ہٹیاں بالا(ویب نیوز)پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی پر احتجاج نوٹ کروانے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس جانے والے ہٹیاں بالا آزاد کشمیر کے پروفیسر پر ڈپٹی کمشنر کے ایما پر پولیس اہلکاروں کا بہیمانہ تشدد. پروفیسر شیخ جمیل کے مطابق انھوں نے پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی پر مسافر کو منع کیا تو گاڑی کے ڈرائیور نے ان سے بد تمیزی کی. کالج سے واپسی پر وہ ڈپٹی کمشنر آفس شکایت لے کر گئے تو ڈپٹی کمشنر نے انھیں دھمکیاں دیں اور پولیس اہلکاروں سے مل کر ان پر تشدد کیا جس سے ان کی ناک سے خون بہنے لگا.

ہٹیاں بالا میں گورنمنٹ بوائز انٹر کالج کھلانہ میں تعینات پروفیسر ڈاکٹر شیخ جمیل حسین پر تشدد کے خلاف آزاد کشمیر ٹیچرز آرگنائزیشن ،ایکٹا اور سول سو سائٹی سڑکوں پر نکل آئی وزیراعظم آزاد کشمیر کے آبائی ضلعی ہیڈ کوارٹر ہٹیاں بالا میں احتجاجا سرینگر مظفرآباد روڈ بلاک ڈپٹی کمشنر ہٹیاں بالا ،ایس ایچ او سٹی تھانہ سمیت تشدد میں ملوث دیگر پولیس اہلکاروں کی نوکریوں سے برطرفی اور فوری طور پر ان کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کر نے کا مطالبہ ۔تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز آزاد کشمیر ٹیچرز آرگنائزیشن ،ایکٹا اور سول سو سائٹی کے رہنماؤں نے طاہر حسین نقوی ،سید افضال ہمدانی ،آصف اقبال مغل ،صابر حسین اعوان ،خواجہ نعیم احمد ،سید خالد حسین کاظمی ،محمد اکرم مرزا ،یاسر جنید مرزا اور دیگر کی قیادت میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہٹیاں بالا میں جمیل حسین تشدد کے خلاف ایک پر امن احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاجا سرینگر مظفرآباد شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیامظاہرین نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر جمیل حسین شیدائی پر تشدد میں ملوث ڈپٹی کمشنر ہٹیاں بالا ،ایس ایچ او سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر نو کریوں سے برطرف کر نے کے علاوہ ان کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا جائے دریں اثناء تشد د کا شکار پروفیسر جمیل حسین دوسرے روز بھی سی ایم ایچ مظفرآباد کے آفیسر وارڈ میں داخل رہے جہاں پر ان کی بلیڈنگ تاحال جاری ہے البتہ ڈاکٹرز نے انھیں خطرے سے باہر قرار دیا ہے پروفیسر جمیل حسین نے سوشل میڈ یا پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ظلم کے خلاف کسی بھی صورت میں خاموش نہیں رہوں گا میرے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کر نے اور ساتھ دینے والوں کا شکر گذار ہوں ہسپتال سے ڈسچارج ہو نے کے بعد دوستوں کی مشاورت سے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کروں گاشیخ جمیل نے مزید کہا کہ ہٹیاں بالا کی وکلاء برادری ،سول سو سائٹی اور دیگر کا شکر گذار ہوں جنہوں نے مھجے ہفتہ کی شام حبس بے جا سے چھڑایا میرا اور ڈپٹی کمشنر ہٹیاں بالا کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی راضی نامہ نہیں ہو ا اور نہ ہی معاملہ ختم ہو نے کی خبروں میں کسی بھی قسم کی کوئی صداقت ہے میں ہسپتال میں زیر علاج ہوں ہسپتال سے فراغت کے بعد دوستوں سے مشورہ کر کے اپنے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا مجھ پر جو ظالمانہ تشدد کیا گیا اس پر میں قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہوں پروفیسر جمیل نے کہا کہ میں ایک شکایت لیکر ڈپٹی کمشنر آفس ہٹیاں بالا گیا جہاں ڈپٹی کمشنر ہٹیاں بالا نے مکا مار کر میری ناک توڑ دی اور اسکے بعد ایس ایچ او ہٹیاں اور دیگر پولیس اہلکاروں نے ڈپٹی کمشنر ہٹیاں بالا کے حکم پر مجھ پر تشدد کرتے ہوئے تھانے میں بند کر دیا
ڈپٹی کمشنر حمید کیانی کا اس تنازعے کے بارے میں یہ کہنا تھا کہ ہفتے کے روز دن کے وقت میٹنگ جاری تھی جس میں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے دن کو منانے کیلئے انتظامات کا جائزہ لیا جارہا تھا ایسے میں ایک شخص دفتر کے احاطے میں داخل ہوا کہ میں نے ڈی سی کو درخواست دینی ہے تو اس کو کہا گیا کہ آپ ابھی مہمان خانے میں بیٹھیں ، میٹنگ کے بعد آپ سے درخواست لی جائے گی لیکن اس شخص نے شور مچانا شروع کردیا کہ یہاں سب چور بیٹھے ہیں میں یہاں انتظار نہیں کرسکتا ۔ میں نے اس شخص کو دفتر بلایا، درخواست لی تو اس شخص نے وہیں سسٹم کے خلاف چیخنا چلانا شروع کردیا ،مجھے بتایا گیا کہ یہی پروفیسر جمیل ہیں جو آئے روز لوگوں سے الجھتے رہتے ہیں، تب میں بھی پہچان گیا کہ یہ وہ سرکاری ملازم ہے جس کے بارے میں اکثر شکایات موصول ہوتی آئی ہیں کہ یہ سب کو برا بھلا کہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں