ہڑپہ: اے ڈی اعجاز کی کتاب اوپن یونیورسٹی کے نصاب میں شامل

ساہیوال (بیورورپورٹ )پنجاب مدینہ الاولیا و صوفیا ،مجاہدوں ،وریاموں اور اس دھرتی کے ایسے غیرت مند سپوتوں کا مسکن ہے جنہوں نے اپنے سروں کے بند باندھ کر غیر ملکی حملہ آوروں کے منہ موڑ دیئے ۔پنجاب کے باسیوں کو نت نئی مہموں سے وابستہ پڑا۔پنجاب کی ہزاروں سالہ تاریخ میں ان گنت بیرونی حملہ آوروں نے پنجاب کو نشانہ بنایا۔اس میں ساہیوال کی سر زمین خاص کر 1857ء کی جنگ آزادی کے سلسلہ میں گوگیرہ اور ہڑپہ کے خطہ نے آزادی کی انوکھی اور بے مثال رقم تاریخ کی جو ادب اور تاریخ کا انمول ہیرہ اور ورثہ ہے۔ان خیالات کا اظہار آج یہاں ہڑپہ میوزیم کے سبزہ زار میں منعقدہ تقریب میں صحافتی ،علمی اور ادبی تنظیموں کے عہدیداران کے اجتماع میں پریس کلب ہڑپہ کے بزرگ صدر اے ڈی اعجاز کی ساہیوال میں ہونے والی آزادی کی جنگوں کے بارے میں تخلیق کردہ کتب کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر شاہد صدیقی نے یونیورسٹی کے ایم فل کے سلیبس میں شامل کرنے کی نوید سناتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ پنجابی ادب نے یوینورسٹی کو تاریخ کا ایک باب عطیہ کر کے ملک و ملت کی نئی پود پر ایک احسان کیا ہے۔یونیورسٹی ان کتابوں کو خوبصورت انداز میں نئے سرے سے شائع کرے گی جن سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والی آئندہ نسلیں مستقبل بعید تک استفادہ کرتی رہیں گی۔یہ کتابیں بطور گوہر درخشا ں یونیورسٹی کی لائبریری کو چمکاتی رہیں گی۔اس موقع پر پریس کلب ہڑپہ کے عہدے داران ‘محمد حسن کیوریٹر ہڑپہ میوزیم ‘ڈائریکٹر انفارمیشن عقیل اشفاق ‘ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ حبیب جیلانی وینس ‘اقبال بخاری‘صدر لوک لہر قسور مبارک بٹ‘سیکرٹری راجہ جہانگیر قمر‘آتش کیانی ‘پروفیسر احمد نواز کمیانہ‘ڈاکٹر غلام مصطفی کھوکھر اور صحافیوں کی کثیر تعدادبھی موجود تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں