بھارتی مذہبی رہنما کو جنسی زیادتی کیس میں سزا

دہلی ( آن لائن )بھارتی مذہبی رہنما گرمیت رام سنگھ کو جنسی زیادتی کیس میں مجرم قرار دے کر گرفتار کر لیا گیا۔ جس کے بعد بھارت بھر میں خصوصاً پنجاب میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں ، ہنگاموں کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔گرمیت رام سنگھ دراصل ہیں کون ؟ان کی تمام تفصیلات بھی سامنے آ گئیں ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق گرمیت رام سنگھ بھارت کے ایک خود ساختہ روحانی پیشوا ہیں جو ریاست ہریانہ میں ڈیرہ سچا سورا نامی فرقے کے سربراہ بھی ہیں۔اپنے شوخ انداز کی وجہ سے وہ ’راک سٹار گرو‘ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ گذشتہ کچھ برسوں سے ان کے نہ صرف ہزاروں پیروکار بنے بلکہ ان کا سیاسی اثر و رسوخ بھی قائم ہوا لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ تنازعات سے بھی الگ نہیں رہے۔
گرمیت رام سنگھ 15 اگست 1967 میں مودیا نامی گاوں میں پیدا ہوئے جو ریاست راجستان میں واقع ہے۔ ان کا کوئی بہن بھائی نہیں۔23 ستمبر 1990 میں وہ ڈیرہ سچا سودا کے ہریانہ میں واقع صدر دفتر کے سربراہ بن گئے۔سرسا میں اس تنظیم کا ایک وسیع و عریض ہیڈ کوراٹر ہے جبکہ پورے ملک 46آشرم ہیں۔ گذشتہ کچھ برسوں سے رام رحیم نے خود کو ایک سماجی اصلاح کار کے طور پر پیش کیا جس کے دوران انھوں نے صفائی اور خون عطیہ کرنے کے لیے مہمات چلائیں۔
2002 میں انڈیا کی وفاقی پولیس نے ان کے خلاف قتل اور ریپ کے مقدمات کی تحقیقات شروع کیں جن سے وہ انکار کرتے رہے۔ اس کے علاوہ ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انھوں نے اپنے 400 پیروکاروں کو مجبور کیا وہ اپنی مردانہ صلاحیت سے محروم ہو جائیں تاکہ وہ بھگوان کے قریب ہو سکیں۔
2010 میں ایک اجتماعی شادی کی تقریب میں ان کے 1000 پیروکاروں نے جسم فروش عورتوں سے شادی کی۔ان کی ذاتی ویب سائٹ پر ان سے متعلق کافی بڑے بڑے دعو ے کیے گئے ہیں۔ وہ متعدد میوزک ویڈیوز میں بھی کام کر چکے ہیں۔
2015 میں انھوں نے فلم بنائی جس میں انھوں نے خود کو خلائی مخلوقات، بھوتوں اور ہاتھیوں سے تنہا لڑتے ہوئے اور معاشرے کے مسائل کو اکیلے ہی حل کرتے ہوئے دکھایا۔ ڈیرہ سچا سودا کے مطابق دنیا بھر میں ان کے چار کروڑ سے زائد پیروکار ہیں۔ تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ان کے بیٹے کی شادی سیاسی جماعت کانگرس کے رکن ہرمندر سنگھ جسّی کی بیٹی سے ہوئی۔ 2017 میں انھوں نے ریاست میں حزب اختلاف کے اتحاد کی حمایت کا اعلان کیا۔
2007 میں وہ ایک اشتہار میں سکّھوں کے پیشوا گرو گوبند سنگھ کی طرح ملبوس ہوئے جس پر سکھ برادری ناراض ہوئی۔ اس کے بعد 2015 میں ایک ہندو تنظیم نے ان کے خلاف شکایت درج کروائی جس کے تحت ایک ویڈیو میں رام رحیم نے ہندو بھگوان وشنو کا روپ دھار رکھا تھا۔ ناقدین کے مطابق انھوں نے ہندوو¿ں کے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں۔
ان تمام تنازعات کے باوجود ان کے پیروکاروں اور حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن میں سیاستدان بھی شامل ہیں۔ ان کے گروہ کو حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگرس دونوں کی ہی حمایت حاصل رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں