صوبائی وزیر کے دست راست کا بلدیہ عملے سے جھگڑا

ساہیوال(بیورورپورٹ)صوبائی وزیر کے دست راست وممبر میونسپل کارپوریشن کی نوپارکنگ میں کھڑی گاڑی اٹھانالفٹر ڈرائیورکو مہنگی پڑگئی۔لفٹرعملہ نے منت سماجت کرتے ہوئے جان چھڑوائی۔صوبائی وزیر کے دست راست اورسپیشل نشست پر میونسپل کارپوریشن ساہیوال کے ممبر برائے کسان ونگ صدیق خان بلوچ نے ٹینکی چوک میں واقع ایک بیکری سے خریداری کیلئے کار نمبری 999-SL نوپارکنگ میں کھڑی کردی جس سے ٹریفک کی روانی سست روی کا شکارہوگئی،اسی دوران ہائی سٹریٹ پرگشت کرتے میونسپل کارپوریشن کے لفٹر نے سڑک کے درمیان میں کھڑی گاڑی کودیکھاتواٹھالیاجس پر صدیق بلوچ سیخ پاہوگیا اوربلند آواز میں لفٹر عملہ کو گالیاں نکالناشروع کردیں کہـ” تم مجھے نہیں جانتے کہ میں کون ہوں ـ”ابھی اپنے بھائی میئر میونسپل کارپوریشن سرداراسد علی خان بلوچ کو فون کرکے تمہیں فارغ کرواتاہوں تمہاری جرأت کیسے ہوئی میری گاڑی کواٹھانے کی جس پر لفٹر عملہ کپکپانے لگااورصدیق بلوچ کی منت سماجت کرتا رہاکافی دیر بعد لفٹر عملہ نے خوف زدہ حالت میں گاڑی اتاردی ۔عوامی وسماجی حلقوں نے کمشنر علی بہادرقاضی اور ڈپٹی کمشنر شوکت علی خاں کھچی سے اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں