چیچہ وطنی کا ایک گمنام اثاثہ “راوی سپورٹس کلب”

تحریر: ارشد فاروق بٹ
چیچہ وطنی میں کالج روڈ پر واقع راوی سپورٹس کلب جس کا اصل نام میونسپل کلب ہےآجکل خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ رائے علی نوازکرکٹ سٹیڈیم کے برعکس راوی سپورٹس کلب کے نام اور مقام سے چیچہ وطنی کے بہت کم لوگ واقف ہیں۔جس کی وجہ اس کا گزشتہ ایک عشرے سے نان فنکشنل ہونا ہے۔
راوی سپورٹس کلب کا کل رقبہ 19 کنال 7 مرلے تھاجس کا انتظام کم وبیش چالیس سال قبل صوبائی حکومت کی طرف سے بلدیہ چیچہ وطنی کو دیا گیا۔ بعد ازاں اس کا بیشتر حصہ گورنمنٹ پرائمری سکول کو دے دیا گیا جو بتدریج ضلعی حکومت کی ملکیت سے سکول ایجوکیشن اتھارٹی کو منتقل ہو گیا۔لیکن باقی ماندہ جگہ پر قائم میونسپل کلب بدستور بلدیہ چیچہ وطنی کی ملکیت میں رہا۔

چیئر مین بلدیہ رانا اجمل راوی سپورٹس کلب کی تاریخ پر روشنی ڈالتےہوئے کہتے ہیں کہ بلدیہ چیچہ وطنی سے یہ میونسپل کلب ایک نجی تنظیم راوی سپورٹس کلب نے کرائے پر لے رکھا ہے۔اس تنظیم کے قواعد وضوابط کے مطابق جو بھی بلدیہ چیچہ وطنی کا سربراہ یعنی ناظم یا چیئرمین ہو گا وہ اس کلب کا صدرہو گا۔اور اس بلدیہ کے ممبران میں سے ہی جنرل سیکرٹری کا تقرر ہوگا۔ راوی سپورٹس کلب کے صدر یعنی بلدیہ کے چیئرمین اور جنرل سیکرٹری اس کلب کے مالی اور انتظامی امور کے ذمہ دار ہونگے اور انتظامی و مالی معاملات کو چلائیں گے۔اس مقصد کے لیے ایک جوائنٹ اکاؤنٹ بھی بنایا گیا جس میں اس میونسپل کلب سے حاصل ہونے والی آمدنی منتقل کی جاتی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ تیس سال سے یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ تحصیل ناظم یا چیئر مین ہی اسے چلاتے رہے۔اس دوران اسسٹنٹ کمشنر صاحبان کے پاس بھی اس کا انتظام رہا۔ لیکن انہوں نے اس کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ ایڈیشنل کمشنر ریونیو چوہدری رفیق بھی اس کے جنرل سیکرٹری رہ چکے ہیں ۔ وہ بھی میونسپل کلب کا جوائنٹ اکاؤنٹ چلاتے رہے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ میونسپل کلب کی جگہ کسی فرد کی ذاتی ملکیت ہے۔ یہ عوامی پراپرٹی ہے۔

پی ایس ٹو چیئرمین بلدیہ ملک جاوید کا کہنا ہے کہ خادم حسین وڑائچ راوی سپورٹس کلب کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ چیئر مین بلدیہ رانا اجمل صاحب نے ان کو ایک مراسلہ بھیجا تھاجس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ میونسپل کلب کےمالی و انتظامی معاملات سے آگاہ کریں جس کا خادم حسین نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بعدچیئرمین صاحب کی طرف سے سرکاری ڈرائیور کو بھیج کر خادم حسین کو طلب کیا گیا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ میونسپل کلب کا جوائنٹ اکاؤنٹ جس میں میونسپل کلب اور ملحق دکانوں کا کرایہ منتقل کیا جاتا رہا اس کے بارے میں بلدیہ چیئر مین کو نہیں بتایا جا رہا۔ اس کی بجائے کسی اورذاتی اکاؤنٹ میں رقوم ٹرانسفر ہوتی رہیں۔ کلب میں شادی بیاہ کے فنکشن بھی ہوتےرہے ہیں۔ ان کا کرایہ بھی ذاتی اکاؤنٹ میں جاتا رہا۔ 2009 سے 2017 تک میونسپل کلب اور ملحق دکانوں کے کرائے کی رقم کس اکاؤنٹ میں جاتی رہی اس کا ریکارڈ موجودہ بلدیہ چیئر مین رانا اجمل کو فراہم نہیں کیا جا رہا۔

عابد مسعودڈوگر انجمن شہریان چیچہ وطنی رجسٹرڈ کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں میونسپل کلب کے جنرل سیکرٹری نے اسسٹنٹ کمشنر صاحبان کو اس کلب کے معاملات سے ٹھیک طرح سے آگاہ نہ کیا ۔سیاسی سرپرستی اور ملی بھگت سے بلدیہ کے ایڈمنسٹریٹر کا چیپٹر ہی کلوز کر دیا گیا۔ اس طرح سے بلدیہ کا میونسپل کلب سیاسی سرپرستی کے باعث بااثر افرادکے قبضے میں چلا گیا جنہوں نے کلب کو سپورٹس کی بجائے ایک فارم بنا رکھا ہےاوراسی وجہ سے کلب نان فنکشنل ہو گیاہے۔ نہ وہاں کوئی سپورٹس سرگرمیاں ہوتیں ہیں اور نہ ہی یہ کلب عوام کے لیے کھولا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انجمن شہریان چیچہ وطنی سمیت شہر کی مختلف سماجی تنظیموں نے چیئرمین صاحب سے رابطہ کر کے راوی سپورٹس کلب عوام کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا جن کے لیے یہ بنا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیئر مین بلدیہ رانا اجمل نے ہماری درخواست پر ایکشن لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ میونسپل کلب کو عوام کے لیے بنایا گیا تھا جس کی بحالی کی ضرورت ہے۔

سید میر رمیز پی ٹی آئی چیچہ وطنی کے رہنما ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سماجی تنظیموں کے مطالبے پر چیئر مین صاحب نے کلب کی صفائی شروع کرائی اور دیواریں نئی بنانے کا حکم دیا۔اس دوران سیاسی مداخلت ہوئی اور اسسٹنٹ کمشنر عامر نذیر کھچی اور ڈی ایس پی امجدجاوید کمبوہ نے کلب کو آکر سیل کر دیا۔ کسی عمارت کو سیل کرنے کے لیے کورٹ سے آرڈر لینے پڑتے ہیں او ر145 کی کاروائی مکمل کرنا پڑتی ہے۔ لیکن اس دن انتظامیہ نے سیاسی پریشر کی بنا پر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔

چیئر مین صاحب نے تمام صورتحال سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا اور مراسلہ بھیجا۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے اپنا نمائندہ بھیجا اور وہ کلب وزٹ کر کے گیا لیکن ڈپٹی کمشنر کے کوئی ایکشن نہ لینے پر چیئرمین بلدیہ رانا اجمل کی جانب سے ملتان ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی گئی جس پر فاضل جج نے ایک ماہ کے اندر ڈپٹی کمشنر کو چیئر مین بلدیہ کی طرف سے بھیجے گئے مراسلے کے مطابق معاملہ حل کرنےکا حکم دیا۔

چوھدری صابر رحمن جو کہ تحصیل نائب صدر پی ٹی آئی چیچہ وطنی ہیں۔۔ان کا کہنا ہے کہ وہ شہر کے رہائشیوں اور شہریوں کی طرف سے اس بڑھتے ہوئے مطالبے کو اہم اور جائز سمجھتے ہیں کیونکہ یہ جائز مطالبہ اک عام سفید پوش شہری کے لیے کسی بھی نعمت سے کم نہیں ۔ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے ،مہنگے ہوٹلوں کی نسبت میونسپل کلب کی جگہ محض دو سے تین ہزار ادا کر کے غریبوں کو میسر تھی۔

یہ مطالبہ اس لیے بھی اہم ہے۔کیونکہ کمیونٹی ہال چیچہ وطنی کی بلڈنگ اب ٹیکنیکل کالج کو دی جا چکی ہے۔اس لیے راوی سپورٹس کلب کو بھی راحت پارک چیچہ وطنی کی طرح دوبارہ بحالی اور تزئین و آرائش کر کے شہریوں کے لیے عرصہ سے اس بند عوامی اثاثہ کو کھول دینا چاہئےتاکہ عام شہری مہنگائی کے اس دور میں اس سہولت سے مستفید ہو سکے۔

معروف شاعر اور فیچر نگار سلمان بشیر راوی سپورٹس کلب میں ہونے والی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ماضی میں یہ مرکز کمیونٹی ہال کے ساتھ ساتھ ادبی سر گرمیوں کا گہوارہ بھی رہا ہے۔۔ملک کے نامور ادیب، دانشوراور شعراء کرام چیچہ وطنی کے اس کلب کو شرف مہمانی بخش چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیچہ وطنی کی تاریخ کا ایک بہت بڑا مشاعرہ 2000 ء میں اسی کلب میں کروایا گیا جسکی صدارت قمر رضا شہزاد نے کی اوروصی شاہ مہمان خصوصی تھے۔ اس کے علاوہ ایک اور مشاعرے میں امجد اسلام امجد اور احمد فراز نے شرکت کی۔ معروف شاعر ادریس قمر کےتعزیتی ریفرنس کئی کتابوں کی تقریب رونمائی اور فیض احمد فیض مرحوم کی پہلی برسی کے انعقاد کا شرف بھی راوی سپورٹس کلب کے حصہ میں آتا ہے۔

حافظ عدنا ن مرہٹہ اس بارے میں کہتے ہیں کہ صوبائی حکومت کی مختلف پراپرٹیز اداروں کو دی جاتی ہیں تاکہ کاروبار حکومت چل سکے۔جیسے سول ہسپتال صوبائی حکومت کی ملکیت ہے لیکن محکمہ صحت کو دے رکھا ہے۔ سکول بھی صوبائی حکومت کی ملکیت ہیں لیکن ان کو محکمہ ایجوکیشن کو دے رکھا ہے۔ بالکل اسی طرح راوی سپورٹس کلب بلدیہ چیچہ وطنی کی ملکیت ہے جسے سیاسی گھرانے کے کسی فرد کو نہیں دیا جا سکتا۔

راوی سپورٹس کلب کا معاملہ عدالتی حکم کے مطابق ایک ماہ میں شاید حل ہو جائے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اسے دوبارہ بحال کر کے تعمیری سرگرمیوں جیسے ادبی محفلوں اور کھیلوں کے لیے فعال کرنا چاہیے

اپنا تبصرہ بھیجیں