محکمہ تعلیم ساہیوال میں جعلسازوں کا گروہ بے نقاب

ساہیوال(دلاور سلطان سے ) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر احمد خاور شہزادنے محکمہ تعلیم میں جعلسازوں کے بڑے گروہ کو بے نقاب کر دیا۔ ڈی او سیکنڈری فوزیہ اعجاز کے عملہ نے سکول ٹیچروں کی جعلی ACR’sلکھ ڈالیں۔ کلیرنس کے لیے رشوت کے ریٹ مقرر کر رکھے تھے۔ محکمہ تعلیم میں ایک او ر بڑے سیکنڈل کا انکشاف۔بد عنوان افسر تعلیم اور عملہ بھاری رشوت کے عوض سکول ٹیچروں کی جعلی اے ۔سی۔آر تیار کرتا رہا۔رشوت نہ دینے والوں کی اے سی آر کو بھی جعلی قرار دے دیا جاتا۔ رشوت کے ریٹ مقرر کر رکھے تھے۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ افسر سیکنڈری فوزیہ اعجاز کے دفتر میں تعینات راؤ منور، ریاض علی اور سنیئر کلرک مقصود احمد نے اپنا نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ سکول ٹیچروں کی اے سی آر لکھوا کر دینے کی آڑ میں ان سے بھاری رشوت وصول کی جاتی۔اے سی آر پر متعلقہ افسر کے جعلی دستخط کر دیئے جاتے۔جو سکول ٹیچر خود اے سی آر لکھوا کر لاتے اس پر اعتراض لگا دیا جاتا۔ متعلقہ پرنسپل کے دستخطوں کو جعلی اور سکول ٹیچر کو جعلسازی کا مرتکب قرار دے کر زبردستی بھتہ وصول کیا جاتا۔ ڈی ۔او فوزیہ اعجاز، راو منور قمر، مقصود احمد اور ریاض علی نے سینکڑوں اساتذہ سے اے سی آر لکھوا کر دینے کی آڑ میں جعلی دستخطوں کے ذریعے لگ بھگ ایک کروڑ روپیہ رشوت اور بھتہ وصول کیا۔ کرپشن ٹرائیکا اور سرپرستی کرنے والی افسر نے رشوت کی رقم سے مختلف کمیٹیاں ڈال رکھی تھیں جن کی مالیت لاکھوں میں بیان کی جاتی ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل احمد خاور نے معاملہ کی انکوائری کرتے ہوئے تمام حقائق کو طشت ازبام کر دیا۔ ایک ایجنسی کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ قوم کے مستقبل کو تعلیم کی روشنی سے منور کرنے والوں کے ساتھ روا رکھی گئی اس زیادتی کی تحقیقات کے لیے کسی ایماندار ، فرض شناس اور خوف خدا رکھنے والے انکوائری افسر کا انتخاب کرنے کا مرحلہ آیا تو فیصلہ کرنے والوں کی نگاہ انتخاب احمد خاور شہزاد پر آکر رک گئی۔ سکینڈل کے حجم کے پیش نظر دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھنے والے افسر کو ہی انکوائری سونپی جاسکتی تھی۔ احمد خاور شہزاد انکوائری افسر مقرر ہوئے۔ سورس رپورٹ کے مطابق جعلی اے سی آرز کی تعداد 50 کے لگ بھگ تھی۔ احمد خاور شہزاد کی شبانہ روز محنت کے بعد متاثرین کی تعداد 50سے کہیں زیادہ نکلی۔ محکمہ تعلیم میں سرگرم فوزیہ اعجاز ڈی او سکینڈری ایجوکیشن کے بدعنوان عملہ کی کرپشن ٹرائیکا کے کئی اور سیاہ کارنامے بھی منظر عام پر آئے ہیں۔ انکوائری رپورٹ سے ہٹ کر ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم میں بعض عناصر خاتون اساتذہ کے استحصال میں پیش پیش ہیں۔ انہیں مختلف حربوں سے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ تاہم انکوائری افسر احمد خاور شہزاد نے اے سی آر لکھنے والے سنیئر اساتذہ پرنسپل گورنمنٹ ہائی سکول 248آر۔بی ۔ فیصل آبادڈاکٹر شوکت اور عبدالمنعم سمیت دیگر اتھاریٹیز سے تحقیقات کیں ۔ گواہوں کو طلب کیا، متاثرہ اساتذہ کے بیانات قلمبند کیے، الزام علیہان پرجرح کروائی۔ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی باریک بینی سے دقیق انداز میں 370صفحات پر مشتمل ایک ضغیم انکوائری رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ کی تیاری کے دوران کیسے کیسے دباؤ برداشت کیے ہوں گے، کیسی کیسی پر کشش پیش کشیں ٹھکرائی ہوں گیں چشم تصور سے ان کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ انکوائری میں دستخط کرنے والے پرنسپل حضرات نے بھی اے سی آر کو جعلی قرار دیا ہے ۔ انکوائری افسر نے ٹرائیکا کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی سفارشات مرتب کر دی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں