محکمہ تعلیم ساہیوال، بااثر کلرکوں کے ہاتھوں مجبور

ساہیوال(دلاور سلطان سے) محکمہ تعلیم کے بااثر کلرکس گذشتہ کئی سالوں سے ایک ہی دفتر میں براجمان حکومت پنجاب کی ٹرانسفر پالیسی 2013ان پر لاگو نہ ہو سکی اعلیٰ حکام نوٹس لیں۔محکمہ تعلیم ساہیوال کے دفاتر چیف ایگزیکٹوآفیسر ایجوکیشن ،ڈی ای او میل فی میل ودیگر دفاتر میں گذشتہ تقریبا پندرہ بیس سال سے بھی زائد عرصہ سے ایک ہی آفس میں کام کرنے والے کلرکس چودھری مبارک گجر ،چودھری منیر حاجی سلیم اخترکالیا،ناصر علی خاں رانا ارشدطارق ساجدجٹ رائو شمیم رائے منیر فخرحیات منورعلی نصیر سہوحاجی ارشد طاہرہ بوٹاگجراورمشتاق وغیرہ شامل ہیں جن پر حکومت پنجاب کی ٹرانسفر پالیسی 2013کبھی بھی لاگو نہ ہو سکی کیونکہ جو بھی افسر آیا ان کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر رہ گیا انکی اپروچ بہت اوپر تک ہے ضلع بھر کے ٹیچر اوردرجہ چہارم کے ملازمین ان کے رحم وکرم پر ہیں کسی کی انکوائری ہو یا محکمانہ ترقی یا پرموشن لسٹ یا پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن کوئی بھی کام ان کی خدمت کے بغیر ناممکن میرٹ کی دھجیاں اڑا کر اور بھاری رشوت لے کر پس پردہ بہت کچھ کیا جاتا ہے بہت سے سکولوں کے فنڈ اور اے جی آفس کی ملی بھگت سے لاکھوں روپے ہڑپ ہوچکے ہیں کئی معمولی کلرک شاندار ہاوسنگ سکیموں میں کوٹھیوں زمینوں اور بڑی بڑی گاڑیوں کے مالک بن چک ہیں اور ان کے بچے مہنگے پرائیوئٹ سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس بہتی گنگا میں بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ساہیوال کاملازم محمد افضل بھی ہاتھ دھورہا ہے. ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم زنانہ کا کلرک جہانگیر بھی خواتین سے این ایس بی اور تنخواہوں کے اجرا میں لاکھوں روپے بٹور چکا ہے جب کہ رائے حسن جو اے جی آفس کا کلرک ہے اس کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے جہانگیر اور حسن دس فی صد فی کیس کمیشن وصول کر رہے ہین.

اپنا تبصرہ بھیجیں