عمران خان اہل ، جہانگیر ترین تا حیات نااہل قرار

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ن لیگ کے حنیف عباسی کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو نااہل قراردینے کی پٹیشن مسترد کردی جبکہ پی ٹی آئی کے جہانگیر ترن کو تاحیات نااہل قرار دے دیا ہے۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جہانگیر ترین کو ایمان دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہیں 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے۔عدالت کے مطابق جہانگیر ترین عدالتی سوالات کے درست جواب نہیں دے رہے تھے، انہوں نے اپنے بیان میں مشکوک اصطلاحات استعمال کیں، اس لیے جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا گیا ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نیازی سروسز کے شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر نہیں تھے، عمران خان نے فلیٹ ایمنسٹی اسکیم میں ظاہر کردیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ عمران خان نے جمائما کے دیے گئے پیسے ظاہر بھی کیے۔اس قبل چیف جسٹس ثاقب نثار نےکہا کہ فیصلے میں ہونے والی تاخیر پر معذرت چاہتا ہوں، ایک صفحے پر غلطی تھی 250 صفحے پڑھنے پڑے۔چیف جسٹس نے کہا کہ غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے کا تعین الیکشن کمیشن کرے۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن غیر جانبدارانہ طور پر تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کی گزشتہ 5 سال تک کی چھان بین کرسکتا ہے۔فیصلہ میں کہا گیا کہ جہانگیر ترین کیخلاف زرعی اراضی پر فیصلہ ابھی نہیں سنایا جارہا۔جہانگیر ترین انسائیڈرٹریڈنگ کے مرتکب ثابت ہوئے۔
عمران خان پر نیازی سروسز لمیٹڈ نام کی آف شور کمپنی ظاہر نہ کرنے جبکہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین پرآف شور کمپنی چھپانے کا الزام تھا۔مقدمے میں عمران خان اور جہانگیر ترین کوآئین کےآرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل کرنے کی استدعاکی گئی ۔فیصلے کے وقت سپریم کورٹ کا کورٹ روم نمبر ایک کھچا کھچ بھرا ہوا تھااوردرخواست گزار حنیف عباسی، وزیراطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سمیت ن لیگ کے متعدد رہنما عدالت موجود تھے۔عمران خان اور جہانگیر ترین سپریم کورٹ موجود نہیں تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کراچی کے دورے کے باعث نہیں آئے، تاہم فواد چودھری اور فردوس عاشق اعوان سمیت تحریک انصاف کے کئی رہنما عدالت میں موجود تھے۔چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سپریم کورٹ کے فیصلے بعد ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ اے ٹی ایم خراب ہے۔ جب کہ حکومتی وزراء نے کہا ہے کہ ایک قانون کے دو ترازو نہیں ہوسکتے ،فیصلے ہمارے لئے نہ ہوشی ہے نہ حیرانی کی بات ہے ۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایک طرف منتخب وزیراعظم کو غیر وصول شدہ تنخواہ پر نااہل کردیا جاتاہے،دوسری طرف کہا جاتا ہے آف شور کمپنی تھی اور ظاہر نہیں کی تو کوئی بات نہيں ،ایک قانون کے دو ترازو نہیں ہوسکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں