رویت ہلال ایکٹ، جھوٹی شہادت پر سزا اور جرمانہ

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے رویت ہلال کمیٹی کی قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔مجوزہ پاکستان رویت ہلال ایکٹ 2017 کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی وفاق کے زیر کنٹرول ہوگی ۔ کمیٹی چیئرمین اور ممبران سمیت 15 رکنی ہوگی ۔ ہر صوبے سے2 علماءاور آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، فاٹا اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا ایک، ایک رکن شامل ہوگا۔مرکزی کمیٹی میں محکمہ موسمیات، اسپارکو اور وزارت مذہبی امور سے بھی ایک، ایک نمائندہ شامل ہوگا۔مرکزی رو یت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کا تقرر وفاقی حکومت کرے گی ۔ کمیٹی کا چیئرمین ہر 3 سال بعد باری باری ہر صوبے سے لیا جائے گا ۔چیئرمین کو ہٹانے کی مجاز وفاقی حکومت یا کمیٹی کی دو تہائی اکثریت ہوگی۔ رویت کی شہادت شر عی طریقہ کار کے مطابق لی جائے گی۔ کسی نجی کمیٹی کو چاند دیکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔بل میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔ قانون شکنی پر 6 ماہ قید، 50 ہزار جرمانہ یا دونوں عائد ہوں گے۔چاند دیکھے جانے کا اعلان کمیٹی سے قبل کرنے پر ٹی وی چینلز پر 10 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہوگا۔ رویت کا نجی اعلان کرنے والے کو ایک سال جیل کی سزا ہوگی۔اسی طرح چاند کی غلط شہادت دینے والے کو 6 ماہ قید، 50 ہزار جرمانہ یا دونوں عائد ہوں گے۔وزارت مذہبی امور نے بل کی منظوری کے لئے سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کردی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں