شاہزیب قتل کیس، شاہ رُخ جتوئی کی سزائے موت کالعدم

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے شاہزیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی کی سزائے موت 4 برس بعد کالعدم قرار دیدی۔سندھ ہائیکورٹ نے سزا کالعدم کر کے کیس دوبارہ سیشن عدالت بھیج دیا ،عدالت نے کہا کہ دہشتگردی کی دفعات کا غلط استعمال کیاگیا، سیشن عدالت کو قانون کے مطابق درخواست سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا ۔
شاہزیب خان کو2012ءمیں بہن سے بدتمیزی سے روکنے پر قتل کیا گیا تھا ،جس پر شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو قتل کے جرم مں سزائے موت سنائی گئی تھی۔شاہ زیب قتل کیس میں مدعی دستبردار ہوگیا ،فریقین میں سمجھوتہ ہوگیا ،پر کیس اب دوبارہ کھلے گا ،سندھ ہائیکورٹ نے شاہ زیب قتل کیس دوبارہ سماعت کے لیے ماتحت عدالت بھیج دیا۔سندھ ہائیکورٹ نے شاہزیب قتل کیس دوبارہ سماعت کے لیے ماتحت عدالت بھیج دیا، عدالت نے حکم دیا کہ ماتحت عدالت کیس میں قتل کے محرکات اور دہشت گردی کی دفعات کا بھی جائزہ لے۔
شاہزیب قتل کیس میں سزائےموت کےخلاف مجرم شاہ رخ جتوئی اوردیگر کی اپیلوں کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی، دوران سماعت پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے عدالت کو بتایا کہ کیس کا مدعی دستبردار ہوچکا۔عدالت نے قتل کیس دوبارہ سماعت کے لیے ماتحت عدالت بھیجتے ہوئے حکم دیا کہ مقدمے کی سماعت متعلقہ سیشن عدالت کرے گی اور قتل کے محرکات کا بھی جائزہ لے گی کہ یہ قتل ذاتی عناد ہے یا دہشت گردی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں فریقین میں سمجھوتہ ہوچکا ہے،مقدمے میں صرف دہشت گردی کے پہلو کاجائزہ لیناباقی ہے۔انسداد دہشتگردی عدالت نے2013ء میں مجرم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو سزائے موت جبکہ مجرم سجاد تالپور اور غلام مرتضیٰ کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں