حکومت اور مظاہرین کے درمیان معاملات طے پاگئے

اسلام آباد: حکومت اور دھرنا دینے والی مذہبی جماعت لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے، جس کے مطابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے اپنے عہدے سے رضاکارانہ استعفیٰ دے دیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو پیش کردیا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق زاہد حامد نے اپنے استعفے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017ء میں ترمیم سے براہِ راست میرا کوئی تعلق نہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک بحرانی کیفیت سے دوچار ہے، موجود کشیدہ صورت حال کے سبب اپنے عہدے سے رضاکارانہ استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے آج زاہد حامد کے استعفے کی منظوری کا امکان ہے۔
زاہد حامد اپنے استعفے پر تفصیلی بیان جاری کریں گے۔ادھر دھرنا قائدین کا کہنا ہے کہ وہ زاہد حامد کے رضاکارانہ استعفے پر اپنے ردعمل کا اظہار مشاورت کے بعد صبح 7بجے کریں گے۔واضح رہے کہ اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر مذہبی جماعت لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گزشتہ 21 روز سے دھرنا دیا ہوا ہے۔ان کا مطالبہ ہے کہ ختم رسالت کے حلف نامے میں متنازع ردوبدل پر وفاقی وزیر قانون اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ہفتے کے روز عدالتی احکامات کے بعد حکومت نے ڈیڈلائن ختم ہونے پر دھرنا مظاہرین کے خلاف کارروائی شروع کی، کارروائی کے باوجود دھرنا ختم نہیں ہوسکا تھا اور اس کا دائرہ ملک بھر کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاج اور دھرنوں کی صورت پھیل گیا تھا۔تاہم ذرائع کے مطابق آرمی کی وساطت سے دھرنا قائدین اور حکومت کے مابین معاملات طے پا گئے ہیں جس کی رو سے گرفتار کارکن تین دن میں رہا کر دئیے جائیں گے جب کہ راجہ ظفر الحق کمیٹی رپورٹ منظر عام پر لا کر ترمیمی الفاظ شامل کروانے والے افراد کے مطابق کارراوئی کی جائے گی.

اپنا تبصرہ بھیجیں