دھرنا سیکیورٹی رینجرز کے سپرد، نوٹیفکیشن میں کلیریکل غلطیاں

اسلام آباد: اسلام آباد میں جاری دھرنے کے خلاف آپریشن کی حکمت عملی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فوج کی جانب سے حکومت کی طرف سے طلبی کے جواب میں فوج نے حالات کی ذمہ داری سنبھالنے سے قبل حکومت سے استفسار کیا تھا کہ پولیس کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے موثر انداز میں استعمال نہیں کیا گیا اور رینجرز کو بھی مکمل اختیارات نہیں دئیے گئے۔اب حکومت نے رینجرز کو فرنٹ لائن پر تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جب کہ ایف سی اور پولیس کو رینجرز کے پیچھے رکھا جائے گا۔ وزیر اعظم ہائو س میں اس وقت ہائی کمان کی میٹنگ بھی جاری ہے جس میں دھرنے کے خاتمے کے لیے موثر راستا نکالنے کے لیے تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ تا ہم اس وقت دھرنے کو پر امن انداز میں ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے سجادہ نشین گولڑہ شریف سے دوبارہ رابطہ کر کے مذاکرات کا سلسلہ ایک بار پھر بحال کرنے کی درخواست کی ہے۔اس بنا پر رینجرز کو دھرنا مظاہرین کو جلائو گھیرائو سے روکنے کے لیےآگے رکھا جائے گا اور پولیس اور ایف سی پیچھے رہیں گے۔قبل ازیں فوج طلبی کے مراسلے میں حکومت نے بوکھلا ہٹ میں واشگاف غلطیاں کی ہیں. 2013 کا سیریل لگا کر حکومت نے جو سرکلر جاری کیا اس میں دھرنے میں معاونت کی بجائے ای سی او سمٹ کی سیکیورٹی میں تعاون طلب کیا گیا ہے.

وزارت داخلہ نے آرٹیکل 245کے تحت سویلین اداروں کی مدد کے لئے نوٹیفکیشن پرانی تاریخوں میں جاری کرنے کے معاملے کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق اس کی تحقیقات کی جائیں گی کہ پارنی تاریخ میں نوٹیفکیشن غلطی سے جاری کیا گیا یا جان بوجھ کر ایسا ہوا،اگر جان بوجھ کر ایسا کیا گیا تو ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی۔یاد رہے کہ وزارت داخلہ نے فیض آباد د ہرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے کے لئے جو نوٹیفکیشن جاری کیا یہ وہ تھا جو 2013میں ای سی او کانفرنس کے انعقاد پر جاری کیا گیا تھا۔کل حکومت کو یہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کے واپس لینا پڑا تھا،بعد ازاں آرٹیکل 245کے تحت فوج سے مدد حاصل کرنے کا نوٹیفکیشن دوبارہ جاری کرنا پڑا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں