دھرنا اور آپریشن: حالات یہاں تک کیسے پہنچے؟ بی بی سی کی رپورٹ

اس سال اکتوبر کے اوائل میں پاس ہونے والے الیکشن ایکٹ 2017 میں شامل چند ترامیم پر تنازع کھڑا ہوا جسے حکومت نے محض ‘غلطی’ قرار دیا لیکن حزب اختلاف کی جماعتوں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف جوڈیشل انکوائری کی جائے۔یہ ترامیم احمدیہ جماعت سے متعلق تھیں جنھیں حکومت پاکستان نے 1974 میں ایک آئینی ترمیم کے تحت غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ حزب اختلاف کی جانب سے نشاندہی کے بعد حکومت نے الیکشن ایکٹ میں ان شقوں کو ان کی پرانی شکل میں بحال کر دیا تھا۔
لیکن اس کے باوجود دو سیاسی جماعتوں، تحریک لبیک یا رسول اور سنی تحریک نے حکومت پر الزام لگایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ختم نبوت اور جماعت احمدیہ سے متعلق شق کو جان بوجھ کر بدلا اور اسے ایک بڑی سازش کا حصہ قرار دیا۔اپنے احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے ان دونوں جماعتوں نے الزام لگایا کہ وزیر قانون زاہد حامد ان ترامیم کے ذمہ دار ہیں اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے انھوں نے حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنہ دینے کی دھمکی دی۔
5 نومبر: اسلام آباد کی انتظامیہ نے دونوں جماعتوں کو تنبیہ کی کہ شہر میں عوامی مظاہرہ کرنے پر پابندی ہے۔
8 نومبر: آٹھ نومبر کو مظاہرین نے وہ مرکزی شاہراہ بند کر دی جو اسلام آباد کو راولپنڈی سے ملاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ میٹرو بس سروس بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی۔
9 نومبر: اسلام آباد پولیس نے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مرکزی رہنما خادم حسین رضوی کی خلاف ایف آئی آر درج کی جس میں انھیں دھرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے ٹریفک جام کے باعث ایک نومولود بچے کی موت کا ذمہ دار قرار دیا گیا لیکن اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
12 نومبر: وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت ہر ممکن اقدامات اور کوشش کر رہی ہے تاکہ مظاہرین کو قائل کیا جائے کہ فیض آباد انٹرچینج سے اپنا دھرنہ منتقل کر کے پریڈ گراؤنڈ یا کسی اور مقام پر لے جائیں۔

15 نومبر: دھرنہ دینے والے مظاہرین نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی جس میں انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کا مطالبہ منظور کرایا جائے۔
نومبر 16: قومی اسمبلی میں وزیر قانون زاہد حامد نے بل پیش کیا جس کے تحت الیکشن ایکٹ 2017 میں کی جانے والی متنازع ترامیم کو ختم کر کے اس کی پرانی شکل میں بحال کر دیا گیا۔ اپنے خطاب میں زاہد حامد نے کہا کہ ‘میں سچا عاشق رسول ہوں اور ختم نبوت سے متعلق شقوں کو تبدیل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا‘۔
اسی روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھرنے میں موجود مظاہرین اور ان جماعتوں کے رہنماؤں کو دھرنہ ختم کرنے کا حکم دیا لیکن اس کی تعمیل نہیں ہوئی۔
نومبر 17: حکومت نے مظاہرین کو ‘آخری تنبیہ’ جاری کی اور کہا کہ وہ دھرنہ ختم کر دیں لیکن اس کے باوجود وہ اسے ختم کرانے کے لیے آپریشن کا آغاز نہ کر سکی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر داخلہ کو دھرنا ختم کرنے کے عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا
نومبر 18: ایک بار پھر وزیر داخلہ احسن اقبال نے اس امید کا اظہار کیا کہ 24 گھنٹوں میں وہ مظاہرین کو منتشر کر کے دھرنہ ختم کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
نومبر 20: حکومت کے وزراء اور مظاہرین کے وفد کے درمیان مذاکرات ہوئے لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔
نومبر 21: پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے مذہبی جماعتوں کے دھرنے سے متعلق از خود نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ کے علاوہ اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے سربراہوں سے اس کے بارے میں جواب طلب کیا۔
تحریک لبیک یا رسول اللہ کے رہنما خادم حسین رضوی نے کہا تھا کہ انھیں یقین ہے پاکستان فوج انھیں ہٹانے کے لیے نہیں آئے گی
نومبر 22: بی بی سی سے گفتگو میں تحریک لبیک یا رسول اللہ کے رہنما خادم حسین رضوی نے کہا کہ انھیں یقین ہے پاکستان فوج انھیں ہٹانے کے لیے نہیں آئے گی کیونکہ وہ ‘انھی کا موقف مضبوط کرنے کے لیے بیٹھے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج نے اس مسئلے میں پہلے ہی موقف دے دیا ہے۔ ‘فوج کبھی بھی ناموسِ رسالت اور ختم نبوت پر نہ کبھی پیچھے ہٹی ہے اور نہ قیامت تک ہٹے گی۔ ہم تو اس آرمی کے موقف کو یہاں مضبوط کر رہے ہیں، تو وہ کیسے آئے گی؟’
اسی شب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ‘بہتر ہوگا کہ اس معاملے کا پرامن طریقے سے حل نکل آئے، تاہم حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی فوج اس پر عمل درآمد کرانے کی پابند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی کے معاملے پر سول اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہیں‘۔
نومبر 24: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر داخلہ کو دھرنا ختم کرنے کے عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جس کے بعد اسلام آباد کی انتظامیہ نے دھرنے کے مظاہرین کو 25 نومبر کی صبح سات بجے تک دھرنہ ختم کرنے کی ایک بار پھر ‘آخری تنبیہ’ جاری کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں