پاکستان پر امریکی دباؤ سے خطے کی سیکیورٹی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے: روس

افغانستان میں تعینات روسی ایلچی ضمیر کابلوف کا کہنا ہے کہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے سے خطے کی مجموعی سیکیورٹی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔افغانستان کے امور سے متعلق روس کی ویب سائٹ افغانستان ڈاٹ رو سے بات کرتے ہوئے ضمیر کابلوف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کے حوالے سے اسٹریٹیجی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان خطے کا اہم ملک ہے جس کے ساتھ مذاکرات کیے جانے چاہیے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان پر دباؤ ڈالنے سے خطے کی مجموعی سیکیورٹی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے اور خطے میں عدم استحکام افغانستان کے لیے نقصان دہ ہے۔‘
دوسری جانب روسی وزیر خارجہ نے افغانستان سے متعلق نئی امریکی پالیسی کو ’قابل مذمت‘ قرار دے دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’افغانستان کے لیے امریکی صدر نے جس پالیسی کا اعلان کیا اس کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم اس بات پر افوسوس کا اظہار کرچکے ہیں کہ واشنگٹن کی جانب سے اعلان کردہ نئی افغان پالیسی طاقت کے زور پر کنٹرول حاصل کرنے کی ہے جو کہ خطرناک امر ہے۔‘واضح رہے کہ 22 اگست کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان میں مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا عندیہ دیا اور اسلام آباد پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام دہراتے ہوئے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کردیا۔
امداد میں کمی کی دھمکی دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان کو اربوں ڈالر ادا کرتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان نے اُن ہی دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے، ہم پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہیں گے‘۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے اس رویے کو تبدیل ہونا چاہیے اور بہت جلد تبدیل ہونا چاہیے‘۔دوسری جانب افغانستان میں 16 سال سے جاری جنگ کو وقت اور پیسے کا ضیاع قرار دینے کے اپنے سابقہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد ’بلینک چیک‘ نہیں، ’ہم قوم کی دوبارہ تعمیر نہیں کررہے، ہم دہشت گردوں کا صفایا کررہے ہیں’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں