دھرنے کی وجہ سے اسلام آباد پولیس مقروض ہو گئی

اسلام آباد: اسلام آباد پولیس دھرنوں اور احتجاج میں اضافی اخراجات کی وجہ سے مقروض ہوگئی،پولیس ذرائع کے مطابق فیض آباد دھرنے کی سیکورٹی کے لیے روزانہ تقریبا ایک کروڑ روپے کے اخراجات دیے جاتے ہیں۔دھرنے پر تعینات پولیس کے جوانوں کو کھانے کے لالے پڑگئے، ادھار کھانا دینے والے ٹھیکے داروں نے مزید ادھار دینے سے انکار کردیا ۔دھرنے کے شرکا کے کھانے پینے پر اب تک تقریباً پونے 5 کروڑ روپے خرچہ آچکا ہے، دھرنے والوں کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے جبکہ دھرنا قائدین میں سے کسی کی ماہانہ آمدن 30ہزار سے زائد نہیں ہے۔
اس وقت دھرنے کے مقام پر موجود2200 افراد کو یومیہ 3وقت کا کھانا، پانی مل رہا ہے،حلوے، خشک میوہ جات کے ساتھ طرح طرح کی مٹھائی بھی ملتی ہےجبکہ چائے قہوے کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق دھرنے کے شرکاء کے کھانے پینے پر اب تک کم و بیش 4کروڑ 75لاکھ 20ہزار سے زائد کے اخراجات ہوچکے ہیں جبکہ سوال یہ ہے کہ یہ سارا خرچہ اٹھا کون رہا ہے ؟
ذرائع نے بتایا کہ سرکاری اداروں نے راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد اور لاہور کے کچھ تاجروں کا پتہ لگا لیا ہے جو دھرنے کے شرکا ءکو باقاعدہ ایک نظام کے تحت تمام سہولیات فراہم کررہے ہیں جبکہ کچھ لوگ انفرادی طور پر بھی دھرنا قائدین کو رقوم فراہم کرتے ہیں جس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔
دوسری جانب سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری بھی 18 روز سے تعینات ہے، ان میں اسلام آباد پولیس کے علاوہ 3ہزار ایف سی اہلکار، 4ہزار پنجاب پولیس اہلکارجبکہ 1000 آزاد کشمیر پولیس کی اضافی نفری بھی ہے۔
دھرنے پر تعینات فورس پر روزانہ خرچہ ایک کروڑ روپے، کھانے پینے پر 25لاکھ روپے یومیہ جبکہ 75 لاکھ روپے پٹرول، رہائش اور دیگر مدوں میں ادا کیے جا رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیسوں کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث پولیس اور ایف سی کے جوانوں کو کھانا فراہم کرنے والے ٹھیکیدار نے مزید ادھار دینے سے انکار کردیا ہے۔ادھر وزارت داخلہ کی منظوری کے باوجود وزارت خزانہ نے جماعت اسلامی اور سنی تحریک کے گزشتہ دھرنوں کے اضافی اخراجات کے 3کروڑ 61لاکھ روپے بھی اب تک جاری نہیں کیے جس سے مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں